Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4965

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجٰى اثْنَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتّٰى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَن يَّحْزَنَهُ .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون الآخر حتى تختلطوا بالناس من أجل أن يحزنه .(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم تین ہو ۱∞؎تو تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کرو حتی کہ تم لوگوں سے خلط ملط ہو جاؤ اس لیے کہ یہ بات اسے غمگین کرے گی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خواہ کسی مجلس میں تین مسلمان ہوں یا کسی راستہ پرجاتے ہوئے تین شخص ہمراہ ہوں یہاں ہمراہی اور مصاحبت مراد ہے لہذا حدیث صاف ہے۔
۲
؎یعنی اگر تین ساتھیوں میں سے دو خفیہ سرگوشی کریں گے تو تیسرے کو اندیشہ ہوگا کہ کوئی بات میرے خلاف طے کی جاوے گی میرے خلاف مشورہ کررہے ہیں،جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو باقی کسی کو یہ خطرہ نہ ہوگا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے۔خیال رہے کہ یہ ممانعت وہاں ہے جہاں تیسرے کو اپنے متعلق یہ شبہ ہوسکتا ہو اگر یہ شبہ نہ ہو سکے تو بلاکراہت یہ عمل جائز ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم اپنے گھرمیں تشریف فرما تھے کہ فاطمہ زہرا حاضر ہوئیں حضور نے انہیں مرحبا کہا اور ان سے کچھ سرگوشی فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4965