Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4978

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا وَاِمْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ كَهَاتَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . وَأَوْمَأَ يَزِيدُ بْنُ ذُرَيْعٍ إِلَى الْوُسْطٰى وَالسَّبَّابَةِ امْرَأَةٌ آمَتْ مِنْ زَوْجِهَا ذَاتُ مَنْصِبٍ وجَمَالٍ حَبَسَتْ نَفْسَهَاعَلَى يَتَامَاهَا حَتّٰى بَانُوا أَوْمَاتُوا رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عوف بن مالك الأشجعي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا وامرأة سفعاء الخدين كهاتين يوم القيامة . وأومأ يزيد بن ذريع إلى الوسطى والسبابة امرأة آمت من زوجها ذات منصب وجمال حبست نفسهاعلى يتاماها حتى بانوا أوماتوا رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں اورسیاہ رخسار والی عورت ۱∞؎ان دو کی طرح ہوں گے قیامت کے دن اور یزید ابن زریع نے بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا ۲؎وہ عورت جو اپنے خاوند سے الگ ہوگئی عزت والی جمال والی جس نے اپنے کو اپنے یتیموں پر روک رکھا حتی کہ وہ جدا ہوگئے یا مر گئے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وہ بچوں والی عورت جسے اپنے بچوں کو پرورش میں اپنے تن بدن کا ہوش نہ ہو کپڑے میلے چہرے کالا دھوئیں وغیرہ سے رہتا ہو خواہ بیوہ ہو یا خاوند والی مگر اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے کہ یہاں بیوہ مراد ہے۔
۲
؎یعنی وہ مجھ سے جنت میں بالکل قریب ہوگی کیونکہ وہ یتیموں کی پالنے والی ہے اور یتیموں کا پالنے والا حضور سے قریب ہوگا۔
۳
؎یعنی اس نے خیال کیا کہ اگر میں نے دوسرا نکاح کرلیا تو میرے یتیم بچوں کو تکلیف ہوگی اس لیے نکاح نہ کیا حتی کہ وہ بچے بالغ ہوشیار ہوکر اس سے بے نیاز ہو گئے یا مر گئے پھر نکاح کیا۔مرقات نے فرمایا کہ اس بشارت میں طلاق والی عورت بھی داخل ہے۔فقیر کہتا ہے جس کا خاوند گم ہوگیا یا دیوانہ ہوگیا غرضکہ کسی طرح خاوند کی سر پرستی سے محروم ہوگئی ان سب عورتوں کا یہ ہی درجہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4978