Main Icon

باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4956

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ إِذَا أَتَاهُ السَّائِلُ أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ قَالَ: اِشْفَعُوْا فَلْتُؤْجَرُوا وَيَقْضِي اللّٰهُ عَلٰى لِسَانِ رَسُوْلِهٖ مَا شَآءَ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا أتاه السائل أو صاحب الحاجة قال: اشفعوا فلتؤجروا ويقضي الله على لسان رسوله ما شاء . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ جب حضور کے پاس سوالی یا حاجت مند آتا تو فرماتے اے صحابہ سفارش کرو ثواب دیئے جاؤ گے ۱∞؎اور الله اپنے رسول کی زبان پر جو چاہے فیصلہ فرمائے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس سائل یاحاجت مند کی حاجت روائی کے لیے ہم سے سفارش کرو تم کو سفارش کرنے کا ثواب ملے گا۔ معلوم ہوا کہ حاکم سے حق اور اہل حق کی سفارش کرنا ثواب ہے کہ نیکی کرنا،نیکی کرانا،نیکی کا مشورہ دینا سب ہی ثواب ہے باطل کی سفارش گناہ ہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ شرعی حددو میں سفارش حرام ہے اور تعزیرات میں سفارش جائز۔(اشعہ)۲؎یعنی اگر ہم تمہاری سفارش کے مطابق فیصلہ کریں تو تمہاری سفارش کی وجہ سے نہ کریں گے بلکہ بہ حکم الٰہی اور اگر سفارش قبول نہ کریں اس کے خلاف فیصلہ کریں تو بھی تمہاری سفارش کی مخالفت سے نہیں بلکہ یہ دونوں عمل بہ حکم الٰہی ہوں گے کیونکہ ہماری زبان پر رب تعالٰی کلام فرماتا ہے ہمارے کام رب کے کام ہیں،ہاں تم کو بہرحال ثواب مل جاوے گا خواہ سفارش قبول ہو یا نہ ہو لہذا تم سفارش قبول نہ ہونے پر ملول نہ ہو اور آئندہ سفارش چھوڑ نہ دو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4956