Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1761

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى قَالَ: يَا عِيسٰى إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً إِذَا أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللهَ وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ. فَقَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ يَكُونُ هٰذَا لَهُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ؟ قَالَ: أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي".رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ

وعن أم الدرداء قالت: سمعت أبا الدرداء يقول: سمعت أبا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول: " إن الله تبارك وتعالى قال: يا عيسى إني باعث من بعدك أمة إذا أصابهم ما يحبون حمدوا الله وإن أصابهم ما يكرهون احتسبوا وصبروا ولا حلم ولا عقل. فقال: يا رب كيف يكون هذا لهم ولا حلم ولا عقل؟ قال: أعطيهم من حلمي وعلمي".رواهما البيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام الدرداء سے فرماتی ہیں میں نے ابو الدرداءکو فرماتے سناکہ میں نے ابو القاسم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سناکہ الله تعالٰی نے فرمایا اے عیسیٰ میں تمہارے بعد ایسی امت پیداکرنے والا ہوں کہ جنہیں اگر پسندیدہ چیز ملے گی تو الله کی حمدکریں گے اور اگر ناپسند چیز ملے گی تو طلب اجر و صبرکریں گے ۱∞؎حالانکہ ان میں علم و حلم نہ ہوگا ۲؎عرض کیا الٰہی ان میں یہ خوبی حلم وعقل کے بغیرکیونکر ہوگی فرمایا انہیں اپنے علم و حلم سے دوں گا ۳؎(بیہقی ،شعب الایمان )

شرح حدیث

۱∞؎اس امت سے مراد امت محمدمصطفےٰ صلی الله علیہ وسلم ہے۔خیال رہے کہ الله تعالٰی نے ہم لوگوں کوپچھلی امتوں کے اچھے برے سارے حالات سنائے مگرپچھلی امتوں کو ہمارے اچھوں کے اچھے حالات سنائے گئے تھے۔لیکن بُروں کے بُرے حالات نہ بتائے گئے یہ اس امت مرحومہ پر خاص کرم خداوندی ہے،دیکھو اگرچہ اس امت میں ناشکرے اور بے صبرے بھی ہیں مگر رب نے عیسیٰ علیہ السلام کو صرف صابرین کے حال سنائے۔۲؎یعنی وہ لوگ اُمی ہوں گے کتابوں کے ذریعہ بردباری اورعقل حاصل نہ کرسکے ہوں گے،مگر قدرتی طور پر انہیں صبرو شکر نصیب ہوگا۔مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ اس جگہ کسبی علم و عقل کی نفی ہے نہ کہ وہبی کی۔۳؎یعنی انہیں علم لدنی کی طرح علم و عقل کی لدنی عطا فرمائی جائے گی۔الحمداللّٰہ !اس امت میں اولیاء،علماء تا قیامت اس صفت کے موجود رہیں گے۔علم و حلم کتاب پرموقوف نہیں۔صوفیاءفرماتے ہیں کہ کسبی علم وعقل فانی ہے،وہبی علم وعقل باقی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ الله تعالٰی اپنے مقرب بندوں کو اپنے صفات عطا فرماتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1761