Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1730

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- لِنِسْوَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ: "لَا يَمُوتُ لإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ من الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبُهُ الا دَخَلَتِ الْجنَّةَ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَوِ اثْنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَوِ اثْنَانِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهما: "ثَلَاثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ".

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لنسوة من الأنصار: "لا يموت لإحداكن ثلاثة من الولد فتحتسبه الا دخلت الجنة، فقالت امرأة منهن: أو اثنان يا رسول الله؟ قال: أو اثنان". رواه مسلم، وفي رواية لهما: "ثلاثة لم يبلغوا الحنث".

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انصاری عورتوں سے فرمایا کہ جس ماں کے تین بچے مرجائیں وہ صبرکرے وہ جنت میں ضرور جائے گی ۱∞؎ان سے ایک بی بی بولی یارسول الله صلی الله علیہ وسلم یا دو فرمایا دو ۲؎(مسلم)اور مسلم،بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ تین وہ بچے جو بلوغ کو نہ پہنچے ہوں۳؎

شرح حدیث

۱∞؎ایسےموقعوں پر اکثر عورتوں سے خطاب ہوتا ہے کیونکہ ماں کو بچے سے محبت زیادہ ہوتی ہے اور صبرکم،نیز ان میں رونے پیٹنے اور نوحہ کی عادت زیادہ ہے۔۲؎اس سوال و جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم الله کی رحمتوں کے بااختیارتقسیم فرمانے والے ہیں۔اگر آپ فرمادیتے کہ نہیں تین پر ہی تو تین ہی پر یہ اجر ہواکرتا جیسےباب الحجمیں حدیث آئے گی کہ اگر ہم فرمادیتے کہ ہر سال حج فرض ہے تو ہر سال ہی فرض ہوجاتا۔۳؎حنثکے معنی ہیں گناہ اسی لیے قسم توڑنے کو حنث کہتے ہیں کہ وہ گناہ ہے،چونکہ بالغ ہونے پر انسان گناہ کے قابل ہوتاہے اس لیئے بلوغ کو حنث کہا جاتاہے۔خیال رہے کہ جوان اولاد کے مرنے اور صبرکرنے پربھی بڑا اجر ہے مگر چھوٹے بچوں پربھی صبرکرنے کا بڑا اجر ہے اور ان کی شفاعت بھی کیونکہ ان کا زخم سخت ہے خصوصًا شیرخوار بچے کی ماں کو جب اس کے پستان میں دودھ زورکرتا ہے اور پینے والا بچہ نہیں ہوتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1730