Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1735

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ لَهٗ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللّٰهُ بِهِمَا الْجَنَّةَ ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ كَانَ لَهٗ فَرَطٌ مَنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: “وَمَنْ كَانَ لَهٗ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ” . فَقَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهٗ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: “فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من كان له فرطان من أمتي أدخله الله بهما الجنة ". فقالت عائشة: فمن كان له فرط من أمتك؟ قال: “ومن كان له فرط يا موفقة” . فقالت: فمن لم يكن له فرط من أمتك؟ قال: “فأنا فرط أمتي لن يصابوا بمثلي” . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میری امت میں سے جس کے دو بچے فوت ہوں گے الله اسے اس کی برکت سے جنت میں داخل کرے گا تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ جس امتی کا ایک ہی فرط (پیشرو)ہوتو فرمایا اے توفیق خیر والی وہ بھی جس کا ایک ہی فرط ہووہ بولیں جس امتی کا کوئی فرط نہ ہو آپ نے فرمایا اس کا میں ہی فرط(یعنی پیشرو)ہوں ۱∞؎انہیں میری جیسی مصیبت نہ پہنچے گی۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎فوت شدہ چھوٹے بچوں کو فرط اس لیئے فرمایا کہ وہ اپنے صابر ماں باپ کو جنت پہنچائے گا،نیز وہ آگے پہنچ کر اس کے اجر کا باعث بنتا ہے۔فرط کےمعنی پہلے ہوچکے وہ پیش رو جماعت جومنزل پرقافلہ سے آگے پہنچے اورتمام چیزوں کا انتظام کرے۔اس حدیث کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ایسے صابر کا فرط میں نہیں صرف بچے ہی ہیں،بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسے صابر کا فرط بچے بھی ہیں میں بھی اور دوسروں کا فرط میں ہی ہوں۔سُبْحَانَ اللّٰهِ !کیسی امید افزاءحدیث ہے۔۲؎یعنی میری امت کے لیئے جیسی مصیبت اور تکلیف کاباعث میری وفات ہے ایسی انہیں کوئی مصیبت نہیں اور یہ حقیقت بھی ہے جن لوگوں نےحضورصلی الله علیہ وسلم کی وفات دیکھی ان پر جو مصیبت پڑی وہ تو وہی جان سکتے ہیں۔آج جس وقت حضورصلی الله علیہ وسلم یاد آتے ہیں تو عاشقوں کے کلیجے پھٹ جاتے ہیں۔مدینہ منورہ سے چلتے وقت زائرین کا جو حال ہوتا ہے وہ نہ پوچھو،مدینہ کے در و دیوار کا فراق ستاتاہے۔میں نے مسجد نبوی شریف کی چوکھٹ سے لپٹ کر لوگوں کو روتے دیکھا ہے۔بدن سے جان نکلتی ہے آہ سینہ سے تیرے فدائی نکلتے ہیں جب مدینہ سے
فقیر نے تیسرے حج پر رخصت کے وقت مدینہ کے درو دیوار سے عرض کیا تھا۔
جا رہا ہے اب ہمارا قافلہ اے در و دیوار شہرِ مصطفی
یاد تیری جس گھڑی بھی آئے گی ہے یقین دل کو بہت تڑپائے گی
غرض یہ حدیث بالکل حق اور صحیح ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کا فراق ساری امت کے لیئے مصیبت عظمٰی ہے۔
یہ قصیدہ وداعیہ فقیر کی کتاب "دیوان سالک"میں دیکھئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1735