Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1750

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَأَبِي بَرْزَةَ قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأٰى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدَيْتَهُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ؟ أَوْ بِصَنِيعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ؟ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ” قَالَ: قَالَ: فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ وَلَمْ يَعُودُوا لِذٰلِكَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن عمران بن حصين وأبي برزة قالا: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة فرأى قوما قد طرحوا أرديتهم يمشون في قمص فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “أبفعل الجاهلية تأخذون؟ أو بصنيع الجاهلية تشبهون؟ لقد هممت أن أدعو عليكم دعوة ترجعون في غير صوركم” قال: قال: فأخذوا أرديتهم ولم يعودوا لذلك. رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین و ابی برزہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو آپ نے ایک قوم کو دیکھا جو اپنی چادریں پھینک گئے تھے اور قمیصوں میں چلتے تھے ۱∞؎نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جاہلیت کا کام اختیار کرتے ہویا جاہلیت کے عمل سے مشابہت کرتے ہو دل چاہتا ہے کہ تمہیں ایسی بددعا دوں کہ تم اپنی غیرصورتوں میں لوٹ جاؤ ۲؎فرمایا کہ انہوں نے فورًا ا پنی چادریں اٹھالیں اور پھر یہ کبھی نہ کیا۔(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎زمانۂ جاہلیت میں دستور تھا کہ جب میت کو دفن کرنے لے جاتے تو پہچانے والے اپنی چادریں راستے میں پھینک جاتے اور لوٹتے میں واپس اٹھا تے،وہ اس میں اظہارغم سمجھتے تھے جیسے آج بعض جاہل مسلمان اظہار غم کے لیئے کالے کُرتے پہنتے ہیں یا اپنے بازؤوں پر کالے کپڑے کی پٹیاں باندھ لیتے ہیں۔کسی کی موت پر خصوصًا اور محرّم میں عمومًا اسے اظہارغم سمجھتے ہیں یہ حرام ہے اور جاہلیت کے زمانہ کا فعل ہے۔رنج و غم دل سے ہوتا ہے نہ کہ کالے پیلے کپڑوں سے۔۲؎یعنی تمہاری صورتیں مسخ ہو جائیں۔معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ان کے اس فعل کوعملی نوحہ قرار دیا اور سخت بددعا کا ارادہ فرمایا،اب جو مسلمان ایسا کرے وہ حضورصلی الله علیہ وسلم کو ناراض کرتا ہے اورحضور صلی الله علیہ وسلم کی بد دعا لینے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ یہ فیشنی غم ہے نہ کہ حقیقی رنج۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1750