Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1758

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولٰى لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " يقول الله تبارك وتعالى: ابن آدم إن صبرت واحتسبت عند الصدمة الأولى لم أرض لك ثوابا دون الجنة ". رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ رب فرماتا ہے اے ابن آدم اگر تو پہلے صدمہ پر صبراور طلب اجر کرے تو میں تیرے لیئے جنت کے سوا کسی ثواب سے راضی نہ ہوؤں ۱∞؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اگرچہ صبر ہر وقت ہی اچھا ہے مگر نئے صدمے پر بہت اچھا کیونکہ اس وقت گھاؤ تازہ ہوتا ہے اس لیئے اس کا ثواب بھی بڑا۔خیال رہے کہ بعض شخصوں کو بعض اعمال کا ثواب جنت کے سوابھی دے دیا جاتا ہے جیسے دنیاوی راحتیں وغیرہ مگر مؤمن صابر کا ثواب جنت ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1758