Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1723

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ: إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا. فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ:”إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَهٗ مَا أَعْطٰى وَكُلٌّ عِنْدَهٗ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ” . فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهٗ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَزَيْدُ ابْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهٗ تَتَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ. فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ فَقَالَ: “هٰذِهٖ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهٖ. فَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أسامة بن زيد قال: أرسلت ابنة النبي صلى الله عليه وسلم إليه: إن ابنا لي قبض فأتنا. فأرسل يقرئ السلام ويقول:”إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل عنده بأجل مسمى فلتصبر ولتحتسب” . فأرسلت إليه تقسم عليه ليأتينها فقام ومعه سعد بن عبادة ومعاذ بن جبل وأبي بن كعب وزيد ابن ثابت ورجال فرفع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبي ونفسه تتقعقع ففاضت عيناه. فقال سعد: يا رسول الله ما هذا؟ فقال: “هذه رحمة جعلها الله في قلوب عباده. فإنما يرحم الله من عباده الرحماء”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی دختر زینب نے حضور کو پیغام بھیجا کہ میرا بچہ فوت ہوگیاتشریف لایئے ۱∞؎حضور نے سلام وپیغام بھیجا کہ الله ہی کا ہے جو دے یا لے اس کے ہاں ہر چیز مدت مقرر پر ہے، صبر و طلب اجر لیں ۲؎انہوں نے پھر پیغام بھیجا آپ کو قسم دیتی تھیں کہ ضرور آئیں ۳؎آپ اٹھے آپ کے ساتھ سعد ابن عبادہ اور معاذ ابن جبل،ابی ابن کعب،زید ابن ثابت کچھ اور لوگ تھے بچہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا جو دم توڑ رہا تھا تب حضور کی آنکھیں بہنے لگیں حضرت سعد نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم یہ کیا ہے فرمایا یہ رحمت ہے جو الله نے اپنے بندوں کے دل میں ڈالی ہے الله اپنے بندوں میں سے رحم والوں پر ہی رحم کرتا ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قبض روح کی حالت میں ہے گویا فوت ہی ہوگیا ہے۔وہ بچہ یا تو علی ابن ابی العاص تھے جو قریب بلوغ فوت ہوئے ہیں یا امامہ بنت ابی العاص،یہی قوی ہے جیساکہ مسند امام احمد میں ہے۔خیال رہے کہ حضرت زینب ابوالعاص ابن ربیع کی بیوی تھیں۔۲؎یعنی صبر سے کام لو میں عنقریب پہنچتا ہوں غالبًا سرکارکسی ضروری کام میں مشغول تھے اس سے معلوم ہوا کہ میت کی نزع کی حالت میں بھی پسماندگان کو تسلی دینا تعزیت کرنا جائز ہے۔۳؎یعنی کیسا ہی ضروری کام ہو چھوڑ دیں اور تشریف لے آئیں،میں بہت بے قرار ہوں آپ کی تشریف آواری سے تسلی ہوگی۔۴؎اطباء کہتے ہیں کہ میت پر بالکل نہ رونے سے سخت بیماری پیدا ہوجاتی ہے،آنسو بہنے سے دل کی گرمی نکل جاتی ہے اس لیئے اس رونے سے ہرگز منع نہ کیا جائے اور ایسے موقع پر رونا نہ آنا سختی دل کی علامت ہے جسے بندوں پر رحم نہیں آتا خدا اس پر رحم نہیں کرتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1723