Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1746

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَا مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ فَيقُومُ بَاكِيهِمْ فَيَقُولُ: وَاجَبَلَاهُ وَاسِيِّدَاهُ وَنَحْوَ ذَلِكَ إِلَّا وَكَّلَ اللّٰهُ بِهِ مَلَكَيْنِ يَلْهَزَانِهِ وَيَقُولَانِ: أَهَكَذَا كُنْتَ؟". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ

وعن أبي موسى قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ما من ميت يموت فيقوم باكيهم فيقول: واجبلاه واسيداه ونحو ذلك إلا وكل الله به ملكين يلهزانه ويقولان: أهكذا كنت؟". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب حسن

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایسی کوئی میت نہیں جو مرجائے تو ان کے رونے والا اٹھ کر کہے ہائے میرے پہاڑ، ہائے میرے سردار وغیرہ مگر الله اس پر دو فرشتے مقررکردیتا ہے جو اسے جھنجھوڑتے ہیں کہتے ہیں تو کیا ایسا ہی تھا ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب حسن ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یَلْھَزَانِ لَھْزٌسے بنا،بمعنی تھپڑ مارنا،نیز منہ پیٹنا جھنجھوڑنا،یہاں تینوں معنے ہوسکتے ہیں اور وہ مردہ مراد ہے جو زندگی میں نوحہ سے راضی ہو یا مرتے وقت اس کی وصیت کر گیا ہو۔اس عذاب کے متعلق علماء کے دس قول ہیں مگر قوی قول وہی ہے جو فقیر نے عرض کیا کہ اگر میت نوحہ سے راضی ہو یا اس کی وصیت کر گیا ہو تو اسے نوحہ پر سزا ملتی ہے ورنہ نہیں اس کا ذکر پہلے ہوچکا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1746