Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1739

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اصْنَعُوا لآِلِ جَعْفَرَ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يُشْغِلُهُمْ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن عبد الله بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر قال النبي صلى الله عليه وسلم : اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد أتاهم ما يشغلهم) رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن جعفر سے فرماتے ہیں کہ جب حضرت جعفر کی موت کی خبر آئی ۱∞؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جعفر کے گھر والو ں کے لیئے کھانا پکاؤ ۲؎کہ ان کے پاس وہ خبر آئی ہے جو کھانے سے باز رکھے گی ۳؎(ترمذی،ابو داؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت جعفر ابوطالب کے فرزند علی مرتضیٰ کے بھائی ہیں،آپ کی شہادت ۸ھ غزوہ موتہ میں ہوئی،موتہ تبوک کے پاس ایک جگہ ہے۔۲؎آپ نے کھانا پکانے کا حکم اپنے اہل بیت کو دیا۔اس کھانےکو جو اہل میت کے لیئے پکایا جائے عربی میںرُفَعَہکہتے ہیں،اردو میں بھتی،پنجابی،میں کوڑا وٹہ۔یہ کھانا بھیجنا سنت ہے بلکہ چاہیئے کہ خودکھانا پکانے والا میت کے گھر کھانا لے جائے اور خود بھی ان کے ہمراہ ہی کھائے،انہیں ساتھ کھانے پر مجبورکرے۔صرف پہلے دن کھانا بھیجا جائے جس دن فوت ہویا فوت کی خبر آئے بعد میں نہ بھیجے،تین دن کا جو رواج ہے یہ غلط ہے۔۳؎یعنی جعفر کے گھر والے آج غم کی وجہ سے کھانا پکا نہ سکیں گے اگر کوئی کھانا نہ لے گیا تو وہ بھوکے رہیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ کھانا یا وہ لوگ کھائیں جو غم کی وجہ سے پکا نہ سکیں یا باہر کے مہمان جو شرکت دفن کے لیئے آئے ہیں،عام برداری والوں کی دعوت اس وقت ممنوع ہے۔حضرت جریر ابن عبد الله فرماتے ہیں کہ ہم لوگ صحابہ میت کے ہاں دعوت کو نوحہ شمار کرتے تھے۔اسی کو فقہاءمنع فرماتےہیں یعنی تین دن تک تمام محلہ و برادری والوں اورمیت والوں کے لیئے کھانا بھیجنا اور پھرتیسرے دن خود میت کے ہاں برداری کی روٹی ہونا،دھوم دھام سے اسے کھانا یہ دونوں کام سخت منع ہیں خصوصًا جب کہ میت کے یتیم بچےبھی ہوں اور میت کے متروکہ مال سے یہ روٹی کی جائے تو اس کا کھانا اور کھلانا سخت حرام ہے کہ یتیم کا مال کھانا حرام ہے۔غرضکہ اہلِ میت کی رسمی دعوت ممنوع ہے اور یہ کھانا جائز ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "اسلامی زندگی" میں ملاحظہ کیجئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1739