Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1757

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِن السِّقْطَ لَيُرَاغِمُ رَبَّهٗ إِذَا أَدْخَلَ أَبَوَيْهِ النَّارَ فَيُقَالُ: أَيُّهَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّهٗ أَدْخِلْ أَبَوَيْكَ الْجَنَّةَ فَيَجُرُّهُمَا بِسَرَرِهٖ حَتّٰى يُدْخِلَهُمَا الْجَنَّةَ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إن السقط ليراغم ربه إذا أدخل أبويه النار فيقال: أيها السقط المراغم ربه أدخل أبويك الجنة فيجرهما بسرره حتى يدخلهما الجنة ". رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کچا بچہ اپنے رب سے جھگڑے گا جب رب اس کے ماں باپ کو آگ میں داخل کرے گا ۱∞؎تو فرمایا جائے گا اے رب سے جھگڑنے والے گرے بچے اپنے ماں باپ کو جنت میں لے جا تب وہ انہیں اپنے نارو سے کھینچے گا حتی کہ انہیں جنت میں داخل کرے گا ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎عربی میںسقطوہ بچہ کہلاتا ہے جو چھ ماہ پورے ہونے سے پہلے شکم مادر سے خارج ہوجائے۔یہاں جھگڑنے سے ناز ومحبت کا جھگڑنا مراد ہے نہ کہ مقابلے کا۔بچے جب ماں باپ سے روٹھ جاتے ہیں تو ماں باپ انہیں مناتے ہیں یہ روٹھنا زور کا نہیں ہے اور نہ منانا کمزوری کا بلکہ یہ محبت کے کرشمے ہیں یہ دنیا اس عالم کی مثال ہے۔۲؎حق یہ ہے کہ حدیث بالکل اپنے ظاہرمعنے پر ہے اس میں کسی تاویل یا توجیہ کی ضرورت نہیں۔بچوں کی شفاعت بھی حق اور ان کا ماں باپ کو نارو میں لپیٹنا بھی اور اس طرح انہیں جنت میں لے جانابھی درست جیسےکسی آنے والے کے گلے میں باہیں ڈال کر اسے گھر میں لے جاتے ہیں۔خیال رہے کہ اس بچہ کو جھگڑالو فرمانا انتہائی کرم کا اظہار ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1757