Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1747

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالْقَلْبَ مُصَابٌ وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالنَّسَائِيّ

وعن أبي هريرة قال: مات ميت من آل رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجتمع النساء يبكين عليه فقام عمر ينهاهن ويطردهن. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “دعهن يا عمر فإن العين دامعة والقلب مصاب والعهد قريب” . رواه أحمد والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ آل رسول الله صلی الله علیہ وسلم میں سے کوئی میت فوت ہوئی تو عورتیں جمع ہوکر اس پر رونے لگیں حضرت عمر کھڑے ہو کر انہیں منع کرنے اور ڈانٹنے لگے تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر انہیں چھوڑدو کیونکہ آنکھیں بہتی ہیں،دل مصیبت زدہ ہے اور واقعہ غم تازہ ہے ۱∞؎(احمد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ میت حضرت زینب بنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم تھیں جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔حضرت عمر فاروق سمجھے تھے کہ میت پر رونا ہی حرام ہے اس وقت تک آپ کو نوحہ اور رونے میں فرق معلوم نہ تھا اس لیئے آپ نے یہ سختی فرمائی،آپ نے اہل قرابت کو رونے سے منع کیا اور اجنبی عورتوں کو ڈانٹ ڈپٹ کی۔حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان شریف میں فرق کرکے دکھادیا کہ نوحہ منع ہے اور رونا جائز،یہاں جائز کام ہورہا ہے تم منع نہ کرو کیونکہ غم تازہ ہے اور دل کا زخم ہرا ہے بعد میں خود بخود صبر آجائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1747