Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1734

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَهٗ بَابَانِ: بَابٌ يَصْعَدُ مِنْهُ عَمَلُهُ، وَبَابٌ يَنْزِلُ مِنْهُ رِزْقُهُ، فَإِذَا مَاتَ بَكَيَا عَلَيْهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهٗ تَعَالٰى: {فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ} رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما من مؤمن إلا وله بابان: باب يصعد منه عمله، وباب ينزل منه رزقه، فإذا مات بكيا عليه، فذلك قوله تعالى: {فما بكت عليهم السماء والأرض} رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہر مؤمن کے دو دروازے ہیں ایک دروازہ وہ جس سے اس کے عمل چڑھتے ہیں دوسرا وہ جس سے اس کی روزی اترتی ہے،جب مؤمن مرجاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں یہ ہی رب کا فرمان ہے کہ کفار پر آسمان و زمین نہیں روتے ہوتے ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اندازہ لگاؤ کہ آسمان میں کتنے دروازے ہوں گے کہ سارے انسانوں میں سے ہر ایک کے لیئے دو دروازے ہیں:روزی آنے کا اور نیک اعمال جانے کا مگر کافر کا اعمال والا دروازہ بندرہتاہےکہ اس کی کوئی نیکی قبول نہیں اور مؤمن کی نیکیاں اس دروازے سے جاتی ہیں اورعلیین میں لکھی جاتی ہیں،مؤمن کے مرنے پر یہ دروازے روتے ہیں اور کافر کے مرنے پر خوش ہوتے ہیں، یہ حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،ہر چیز میں احساس ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1734