Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1737

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «من عَزّٰى مُصَابًا فَلَهٗ مِثْلُ أَجْرِهٖ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهٗ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ الرَّاوِي وَقَالَ: وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَوْقَةَ بِهَذَا الإِسْنَاد مَوْقُوفًا.

وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من عزى مصابا فله مثل أجره» . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا إلا من حديث علي بن عاصم الراوي وقال: ورواه بعضهم عن محمد بن سوقة بهذا الإسناد موقوفا.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو کسی مصیبت زدہ کوتسلی دے(اسے)اس جیسا ثواب ملے گا ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے جسے ہم صرف علی ابن عاصم راوی کی حدیث ہی سے مرفوع پہنچانتے ہیں اور بعض محدثین نے یہ حدیث اسی اسناد سے محمد ابن سوقہ سے موقوفًا روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ بھلائی کی رہبری کرنے والے کوبھی بھلائی کا ثواب ہے۔تعزیت کے ایسے پیارے الفاظ ہونے چاہئیں جس سے اس غمزدہ کی تسلی ہوجائے یہ الفاظ بھی کتب فقہ میں منقول ہیں۔فقیر کا تجربہ ہے کہ اگر اس موقعہ پر غمزدوں کو واقعات کربلا یاد دلائے جائیں اور کہا جائے کہ ہم لوگ تو کھا پی کر مرتے ہیں وہ شاہزادے تو تین دن کے روزہ دار شہید ہوئے تو بہت تسلی ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1737