Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1751

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جَنَازَةٌ مَعهَا رَانَّةٌ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَابْن مَاجَه

وعن ابن عمر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تتبع جنازة معها رانة. رواه أحمد وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ نوحہ والی ہوا ۱∞؎(احمد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میت کے ساتھ رونے پیٹنے والی ہو وہاں نہ جائے جیساکہ بعض جگہ رواج ہے کہ میت کے ساتھ قبرستان تک روتی پیٹتی عورتیں جاتی ہیں اور اگر یہ عورتیں میت سے دور ہوں تو عالم شیخ اور بزرگان دین تو اس میں شرکت نہ کریں عوام کرسکتے ہیں،جیسے کہ دعوتِ ولیمہ میں اگر دستر خوان پر ناچ گاناہے تو وہاں کوئی نہ جائے اور اگر وہاں سے دُور ہے تو مشائخ کرام و علماء عظام نہ جائیں تاکہ صاحب خانہ اس سے توبہ کرے عوام جاسکتے ہیں،لہذا یہ حدیث اس فقہی مسئلہ کے خلاف نہیں کہ نوحہ گر کی وجہ سے میت کے کفن دفن میں شرکت کو نہ چھوڑو کیونکہ وہ حکم عوام کے لیئے اور یہ حدیث خواص کے لیئے یا وہ حکم وہاں ہے جب نوحہ دور ہو اور یہ حکم وہاں ہے جہاں نوحہ بالکل میت سے متصل ہو،وہ مسئلہ فقہی بھی درست ہے اور یہ حدیث بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1751