Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1736

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللهُ تَعَالٰى لِمَلَائِكَتِهٖ: قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهٖ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: مَاذَا قَالَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ. فَيَقُولُ اللهُ : ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ ". رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ

وعن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا مات ولد العبد قال الله تعالى لملائكته: قبضتم ولد عبدي؟ فيقولون: نعم. فيقول: قبضتم ثمرة فؤاده؟ فيقولون: نعم. فيقول: ماذا قال عبدي؟ فيقولون: حمدك واسترجع. فيقول الله : ابنوا لعبدي بيتا في الجنة وسموه بيت الحمد ". رواه أحمد والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب کسی بندے کا بچہ مرجاتا ہے تو الله تعالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے کیا تم نے میرے بندے کے بچے کو وفات دے دی وہ کہتے ہیں ہاں توکہتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل توڑ لیا تو عرض کرتے ہیں ہاں فرماتا ہے میرے بندے نے کیا کہا عرض کرتے ہیں تیری حمد کی اوراِنَّا لِلّٰہپڑھی،رب فرماتا ہے میرے بندے کے لیے جنت میں گھر بناؤ اور گھر کا نام بیتالحمدرکھو ۱∞؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ سوال و جواب ان فرشتوں سے ہے جو میت کی روح بارگاہِ الٰہی میں لے جاتے ہیں اس سے مقصود ہے انہیں گواہ بنانا ورنہ رب تعالٰی علیم و خبیر ہے۔خیال رہے کہ جنت میں بعض محل رب کی طرف سے پہلے ہی بن چکے ہیں اور بعض انسان کے اعمال پر بنتے ہیں،یہاں اس دوسرے محل کا ذکر ہے جیسے یہاں مکانوں کے نام کاموں سے ہوتے ہیں ویسے ہی وہاں محلات کے نام اعمال سے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1736