Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1745

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: أُغْمِيَ عَلیٰ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ فَجَعَلَتْ أُخْتُهٗ عَمْرَةُ تَبْكِي: وَاجَبَلَاهَ وَاكَذَا وَاكَذَا،تُعَدِّدُ عَلَيْهِ فَقَالَ حِينَ أَفَاقَ: مَا قُلْتِ شَيْئًا إِلَّا قِيلَ لِي: أَنْتَ كَذٰلِكَ ؟ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَبْكِ عَلَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن النعمان بن بشير قال: أغمي علی عبد الله بن رواحة فجعلت أخته عمرة تبكي: واجبلاه واكذا واكذا،تعدد عليه فقال حين أفاق: ما قلت شيئا إلا قيل لي: أنت كذلك ؟ زاد في رواية فلما مات لم تبك عليه. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں کہ عبد الله ابن رواحہ پرغشی چھاگئی تو ان کی بہن عمرہ رونے لگیں کہ ہائے میرے پہاڑ ہائے میرے ایسے ہائے میرے ویسے ان کی خوبیاں گن گن کر،جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا کہ تم نے کچھ نہ کہا مگر مجھ سے کہا گیا کیاتم ایسے ہی ہو ۱∞؎ایک روایت میں زیادہ کیا تو جب وہ فوت ہوئے تو ان کی بہن ان پر نہ روئیں۔(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تم یہ کہہ کر پیٹتی تھیں اور فرشتہ مجھ سے یہ پوچھتا تھا۔خیال رہے کہ یہاں فرشتے کا یہ پوچھنا آپ پر عتاب کے لیئے نہ تھا کیونکہ آپ تو نوحہ سے راضی تھے ہی نہیں اور نہ آپ نے اس کا حکم دیا تھا۔منشاء صرف یہ تھا کہ آپ ہوش میں آکر اپنی بہن کو فرشتہ کا یہ سوال سنائیں جس سے نبی صلی الله علیہ وسلم کے کلام کی تصدیق ہو اوربہن و سارے سننے والوں کوتبلیغ کہ وہ اس سے باز رہیں۔چنانچہ پھر آپ کی بہن آپ کی وفات پربھی نہ روئیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1745