Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1753

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ . فَقَالَ: “اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا” فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ ثُمَّ قَالَ: « مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمَ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ » فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوِ اثْنَيْنِ؟ فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ. ثُمَّ قَالَ: “وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ” . رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن أبي سعيد قال: جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله ذهب الرجال بحديثك فاجعل لنا من نفسك يوما نأتيك فيه تعلمنا مما علمك الله . فقال: “اجتمعن في يوم كذا وكذا في مكان كذا وكذا” فاجتمعن فأتاهن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعلمهن مما علمه الله ثم قال: « ما منكن امرأة تقدم بين يديها من ولدها ثلاثة إلا كان لها حجابا من النار » فقالت امرأة منهن: يا رسول الله أو اثنين؟ فأعادتها مرتين. ثم قال: “واثنين واثنين واثنين” . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آکر بولی یا رسول الله مرد آپ کی احادیث لے گئے ہمیں بھی اپنی ذات شریف سے ایک دن عطا کریں جس سے ہم آپ کے پاس آجایاکریں کہ آپ ہمیں ان میں سے کچھ سکھایا کریں جو الله نے آپ کو سکھایا ۱∞؎فرمایا فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہوجایاکریں۲؎چنانچہ وہ جمع ہوگئیں ان کے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور رب کے سکھائے سے انہیں سکھایا ۳؎پھر فرمایا تم میں ایسی کوئی عورت نہیں جو اپنے تین بچے آگے بھیج دے ۴؎مگر وہ اس کے لیئے آگ سے آڑ ہوں گے تو ان میں سے ایک عورت بولی یارسول الله یا دو اس نے دوبارہ یہ سوال دہرایا تو آپ نے فرمایا اور دو اور دو اور دو۔(بخاری)۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مَردوں نے آپ کا فیض صحبت بہت حاصل کیا ہر وقت آپ کی احادیث سنتے رہتے ہیں ہم کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا اتنا موقعہ نہیں ملتا مہینہ میں یا ہفتہ میں ایک دن ہم کوبھی عطا فرمائیں کہ اس میں صرف ہم کو وعظ فرمایاکریں۔اس سے معلوم ہوا کہ تبلیغ وغیرہ کے لیئے دن مقررکرنا بالکل جائز بلکہ سنت ہے۔آج مدرسوں میں تعلیم، تعطیل،امتحان کے لیئے دن مقرر ہوتے ہیں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔اسی طرح میلاد شریف،گیارھویں شریف،عرس بزرگانِ دین کے لیئے دن مقررکرنا جائز ہے کہ ان سب میں دین کی تبلیغ ہوتی ہے،تبلیغ کے لیئے تعین درست۔یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف عورتوں کو وعظ سناناجائز ہے بشرطیکہ غیرمحرم عورتیں پردہ میں رہیں۔حضور صلی الله علیہ وسلم سے کسی عورت پر پردہ فرض نہ تھا کہ حضور امت کے لیئے مثل والد کے ہیں پھربھی حضور بہت احتیاط فرماتے تھے۔۲؎یومسے مراد دن ہے اور جگہ شاید مسجد میں ہوگی یا کسی اور جگہ گھر میں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ استاد ہی شاگردوں کو اپنے گھر نہ بلائے بلکہ کبھی شاگردوں کے گھر جاکربھی تعلیم دیا کرے یا کسی تیسری جگہ کو مقرر کردے جو نہ استاد کا گھر ہو نہ شاگرد کا،لہذا یہ حدیث موجود دینی مدرسوں کی اصل ہے جہاں شاگرد استاد جمع ہوکر علم سیکھیں سکھائیں،اگرچہ بہتر یہ ہی ہے کہ شاگرد استاد کے پاس جاکر سیکھے،موسیٰ علیہ السلام خضر علیہ السلام کے پاس علم سیکھنے گئے تھے،خضر علیہ السلام آپ کے پاس نہ آئے تھے۔۳؎شاید یہ واقعہ ایک ہی بار ہوا اور ہوسکتا ہے کہ بارہا اس مدرسہ میں یہ اجتماع ہوتا رہا کیونکہعَلَّمَباب تفعیل سے ہے جو آہستگی و تدریج بتاتا ہے۔۴؎آگے بھیجنے سے مراد یہ ہے کہ ماں کی زندگی میں بچے فوت ہوں اور وہ ان پر صبرکرے،یہ مطلب نہیں کہ انہیں ہلاک کردے۔۵؎یہاں واؤ،بمعنیاَوْہے اوراِثْنَیْنِکی تکرار تاکید کے لیئے ہے یعنی یا دو فوت ہوں یا دو یا دو۔معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم رحمتِ الٰہی کے بااختیارقاسم ہیں اورحضورصلی الله علیہ وسلم کی زبان مبارککُنْکی کنجی ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا کہ مجھے تو رب تعالٰی نے تین بچے فوت ہونے کے متعلق فرمایا تھا اچھا اب جب جبریل آئیں گے تو ان کے ذریعہ رب سے پوچھوا لیں گے بلکہ خود ہی یہ جواب دے دیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1753