- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- حدیث نمبر 1753
باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1753
جنازوں کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ . فَقَالَ: “اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا” فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ ثُمَّ قَالَ: « مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمَ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ » فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوِ اثْنَيْنِ؟ فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ. ثُمَّ قَالَ: “وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ” . رَوَاهُ البُخَارِيّ
وعن أبي سعيد قال: جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله ذهب الرجال بحديثك فاجعل لنا من نفسك يوما نأتيك فيه تعلمنا مما علمك الله . فقال: “اجتمعن في يوم كذا وكذا في مكان كذا وكذا” فاجتمعن فأتاهن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعلمهن مما علمه الله ثم قال: « ما منكن امرأة تقدم بين يديها من ولدها ثلاثة إلا كان لها حجابا من النار » فقالت امرأة منهن: يا رسول الله أو اثنين؟ فأعادتها مرتين. ثم قال: “واثنين واثنين واثنين” . رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوسعید فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آکر بولی یا رسول الله مرد آپ کی احادیث لے گئے ہمیں بھی اپنی ذات شریف سے ایک دن عطا کریں جس سے ہم آپ کے پاس آجایاکریں کہ آپ ہمیں ان میں سے کچھ سکھایا کریں جو الله نے آپ کو سکھایا ۱∞؎فرمایا فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہوجایاکریں۲؎چنانچہ وہ جمع ہوگئیں ان کے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور رب کے سکھائے سے انہیں سکھایا ۳؎پھر فرمایا تم میں ایسی کوئی عورت نہیں جو اپنے تین بچے آگے بھیج دے ۴؎مگر وہ اس کے لیئے آگ سے آڑ ہوں گے تو ان میں سے ایک عورت بولی یارسول الله یا دو اس نے دوبارہ یہ سوال دہرایا تو آپ نے فرمایا اور دو اور دو اور دو۔(بخاری)۵؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی مَردوں نے آپ کا فیض صحبت بہت حاصل کیا ہر وقت آپ کی احادیث سنتے رہتے ہیں ہم کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا اتنا موقعہ نہیں ملتا مہینہ میں یا ہفتہ میں ایک دن ہم کوبھی عطا فرمائیں کہ اس میں صرف ہم کو وعظ فرمایاکریں۔اس سے معلوم ہوا کہ تبلیغ وغیرہ کے لیئے دن مقررکرنا بالکل جائز بلکہ سنت ہے۔آج مدرسوں میں تعلیم، تعطیل،امتحان کے لیئے دن مقرر ہوتے ہیں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔اسی طرح میلاد شریف،گیارھویں شریف،عرس بزرگانِ دین کے لیئے دن مقررکرنا جائز ہے کہ ان سب میں دین کی تبلیغ ہوتی ہے،تبلیغ کے لیئے تعین درست۔یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف عورتوں کو وعظ سناناجائز ہے بشرطیکہ غیرمحرم عورتیں پردہ میں رہیں۔حضور صلی الله علیہ وسلم سے کسی عورت پر پردہ فرض نہ تھا کہ حضور امت کے لیئے مثل والد کے ہیں پھربھی حضور بہت احتیاط فرماتے تھے۔۲؎یومسے مراد دن ہے اور جگہ شاید مسجد میں ہوگی یا کسی اور جگہ گھر میں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ استاد ہی شاگردوں کو اپنے گھر نہ بلائے بلکہ کبھی شاگردوں کے گھر جاکربھی تعلیم دیا کرے یا کسی تیسری جگہ کو مقرر کردے جو نہ استاد کا گھر ہو نہ شاگرد کا،لہذا یہ حدیث موجود دینی مدرسوں کی اصل ہے جہاں شاگرد استاد جمع ہوکر علم سیکھیں سکھائیں،اگرچہ بہتر یہ ہی ہے کہ شاگرد استاد کے پاس جاکر سیکھے،موسیٰ علیہ السلام خضر علیہ السلام کے پاس علم سیکھنے گئے تھے،خضر علیہ السلام آپ کے پاس نہ آئے تھے۔۳؎شاید یہ واقعہ ایک ہی بار ہوا اور ہوسکتا ہے کہ بارہا اس مدرسہ میں یہ اجتماع ہوتا رہا کیونکہعَلَّمَباب تفعیل سے ہے جو آہستگی و تدریج بتاتا ہے۔۴؎آگے بھیجنے سے مراد یہ ہے کہ ماں کی زندگی میں بچے فوت ہوں اور وہ ان پر صبرکرے،یہ مطلب نہیں کہ انہیں ہلاک کردے۔۵؎یہاں واؤ،بمعنیاَوْہے اوراِثْنَیْنِکی تکرار تاکید کے لیئے ہے یعنی یا دو فوت ہوں یا دو یا دو۔معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم رحمتِ الٰہی کے بااختیارقاسم ہیں اورحضورصلی الله علیہ وسلم کی زبان مبارککُنْکی کنجی ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا کہ مجھے تو رب تعالٰی نے تین بچے فوت ہونے کے متعلق فرمایا تھا اچھا اب جب جبریل آئیں گے تو ان کے ذریعہ رب سے پوچھوا لیں گے بلکہ خود ہی یہ جواب دے دیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1753