Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1724

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: اشْتَكىٰ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوىٰ لَهٗ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهٗ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهٗ فِي غَاشِيَةٍ فَقَالَ: (قَدْ قَضٰى؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى القَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا فَقَالَ: أَلَا تَسْمَعُونَ؟ أَنَّ اللهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلٰى لِسَانِهٖ أَوْ يَرْحَمُ وَإِنَّ الْمَيِّتَ لِيُعَذِّبَ بِبُكَاءِ أَهْلِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن عمر قال: اشتكى سعد بن عبادة شكوى له فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده مع عبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص وعبد الله بن مسعود فلما دخل عليه وجده في غاشية فقال: (قد قضى؟ قالوا: لا يا رسول الله فبكى النبي صلى الله عليه وسلم فلما رأى القوم بكاء النبي صلى الله عليه وسلم بكوا فقال: ألا تسمعون؟ أن الله لا يعذب بدمع العين ولا بحزن القلب ولكن يعذب بهذا وأشار إلى لسانه أو يرحم وإن الميت ليعذب ببكاء أهله (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضرت سعد ابن عبادہ کچھ بیمار ہوئے ۱∞؎تو حضورصلی الله علیہ وسلم عبدالرحمان ابن عوف،سعد ابن ابی وقاص اور ابن مسعود کے ساتھ ان کے پاس تشریف لے گئے جب وہاں پہنچے تو انہیں غشی میں پایا پوچھا کیا وفات ہوگئے ۲؎لوگوں نے کہا نہیں یارسول الله تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم روئے جب قوم نے نبی کا رونا دیکھا تو وہ بھی رونے لگےحضور نے فرمایا کیا تم سنتے نہیں کہ الله تعالٰی آنکھ کے آنسوؤں دل کے غم سے عذاب نہیں دیتا اپنی زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ اس سے یہ عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے۳؎اور میت کو گھر والوں کے رونے پر عذاب ہوتا ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎شاید راوی کو بیماری کا پتہ نہ لگا کہ انہیں کیا بیماری تھی۔خیال رہے کہ حضرت سعد اس بیماری میں فوت نہیں ہوئے بلکہ ۱۵ھ عہد فاروقی میں مقام حوراں علاقہ شام میں وفات پائی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ کو جنات نے قتل کیا۔۲؎خیال رہے کہ انبیاء و اولیاء کے حالات مختلف ہوتے ہیں کبھی اپنے سے بھی بے خبر ہوجاتے ہیں۔اسی کو شیخ سعدی فرماتے ہیں۔شعر
بگفت احوال مابرق جہاں است
دمے پیدا و دیگر دم نہاں است
گہے برطارم اعلے نشینیم
گہے برپشت پائے خود نہ بینیم
حضورصلی الله علیہ وسلم سب کی موت کے وقت اور جگہ سے خبردار ہیں کہ بدر میں ایک دن پہلے ہی ہر کافر کے قتل کی جگہ اور وقت بتادیا کہ کل یہاں فلاں مرے گا اور آج یہ فرمارہے ہیں۔
مرقات نے فرمایا کہ یہ کلام عتابانہ تھا لوگ انہیں گھیرے ہوئے تھے،چادر اوڑھائی ہوئی تھی تو فرمایا کہ کیا یہ فوت ہوگئے ہیں جو تم نے چادر اوڑھادی تب تو مطلب بالکل ظاہر ہے۔۳؎حضورصلی الله علیہ وسلم کا یہ رونا انکی موت کے خوف سے نہ تھا بلکہ ان کی تکلیف دیکھ کر رحمت کی بنا پر اور یہ کلام حکیمانہ مبلّغانہ تھا کہ کسی کی بیماری یا موت پر بے صبری یا نوحہ نہ کرنا چاہیئے۔مطلب یہ ہے کہ جو مصیبت پر حمد الٰہی کرتاہے الله اس پر رحم کرتا ہے اور جو بکواس بکتا ہے وہ سزا پاتا ہے۔۴؎اس کی پوری شرح آگے آئے گی۔یہاں اتنا سمجھ لو کہ میت سے مراد وہ ہے جس کی جان نکل رہی ہو اور عذاب سے مراد تکلیف ہے یعنی اگر جان نکلتے وقت رونے والوں کا شور مچ جائے تو اس شور سے مرنے والے کو تکلیف ہوتی ہے،بلکہ بیمار کے پاس بھی شور نہ کرناچاہیئے کہ اس سے بیمارکو ایذا پہنچتی ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کسی کا گناہ میت پر کیوں پڑتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1724