Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1756

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهٗ ابْنٌ لَهٗ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَتُحِبُّهُ؟” فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّكَ اللهُ كَمَا أُحِبُّهُ. فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ؟” قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَاتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَمَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهٗ يَنْتَظِرُكَ؟” فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ لَهٗ خَاصَّةً أَمْ لِكُلِّنَا؟ قَالَ: “بَلْ لِكُلِّكُمْ” . رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن قرة المزني: أن رجلا كان يأتي النبي صلى الله عليه وسلم ومعه ابن له . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : “أتحبه؟” فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم أحبك الله كما أحبه. ففقده النبي صلى الله عليه وسلم فقال: “ما فعل ابن فلان؟” قالوا: يا رسول الله مات. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « أما تحب أن لا تأتي بابا من أبواب الجنة إلا وجدته ينتظرك؟” فقال رجل: يا رسول الله له خاصة أم لكلنا؟ قال: “بل لكلكم” . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قرہ مزنی سے کہ ایک شخص اپنے بچے کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا اس سے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو اس سے محبت کرتا ہے وہ بولا یا رسول الله جتنی میں اس سے محبت کرتا ہوں رب آپ سے بھی اتنی محبت کرے ۱∞؎ایک دفعہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اسے گم پایا ۲؎تو پوچھا فلاں کا بیٹا کیا ہوا لوگوں نے کہا یارسول الله وہ مرگیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ پسندنہیں کہ تم جنت کے کسی دروازے پر نہ جاؤ مگر وہاں اسے اپنا انتظارکرتا پاؤ ۳؎ایک شخص نے کہا یارسول الله کیا یہ خاص اسی کے لیئے ہے یا ہم سب کے لیئے فرمایا بلکہ تم سب کے لیئے۔(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎انہیں جواب دینا نہ آیا اپنی زیادتی محبت کو اس طرح ظاہر کیا ورنہ جتنی محبت رب تعالٰی حضور صلی الله علیہ وسلم سے کرتاہے اتنی کوئی کسی سے نہیں کرسکتا نہ ماں باپ اکلوتے بیٹے سے،نہ بھائی اپنے بھائی سے،حضور صلی الله علیہ وسلم محبوب اکبر ہیں حتی کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے پیرو کار غلام بھی رب کے محبوب ہوجاتے ہیں،فرماتا ہے:"فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُلہذا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ صحابہ حضورصلی الله علیہ وسلم کو رب کا محبوب اکبر نہ مانتے تھے۔خیال رہے کہ یہاں مقدارمحبت رحمت وکرم کی ہے نہ کہ نوعیت محبت کیونکہ ماں باپ کو اولاد سے ولادت کے باعث خونی محبت ہوتی ہے رب تعالٰی اس محبت سے پاک ہے،اس کی محبت رحمت وکرم کی ہے نہ کہ رشتہ داری اور قرابت کی۔۲؎یا اس بچہ کوگم پایا کہ باپ کے ساتھ نہ دیکھا یا اس شخص کو ہی گم پایا کہ وہ اس غم کی وجہ سے حاضر بارگاہ نہ ہوسکے۔غالبًا یہ صاحب مدینہ شریف کے علاوہ کہیں اور رہتے ہوں گے یا اگر اہل ِ مدینہ سے ہوں گے تو ان کے بچے کی وفات کے وقت حضور صلی الله علیہ وسلم باہر ہوں گے،ورنہ نبی صلی الله علیہ وسلم ہر ایک کے جنازے و دفن میں شرکت فرماتے تھے۔۳؎یعنی اس خبر کے بعد جب وہ شخص حضورصلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضرہوئے یا جب حضور صلی الله علیہ وسلم ان کے پاس تعزیت کے لیئے تشریف لے گئے تب اس شخص سے مخاطب ہوکر یہ فرمایا۔مطلب یہ ہے کہ تم جنتی ہو اور تمہارے جنت میں داخلے کی شان یہ ہوگی کہ تمہارا بچہ تمہارے لیئے جنت کا وہ دروازہ جس سے تم جانے والے ہو گے کھلوائے ہوئے کھڑا ہوگا اورتمہارے استقبال کے لیئے وہاں تمہیں موجود ملے گا،قیامت میں وہ تمہاری شفاعت پہلے ہی کرچکا ہوگا،لہذا اس حدیث میں اس بچہ کی شفاعت کا انکار نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ہر ایک کے انجام اور اس کے جنتی دوزخی ہونے،بلکہ اس کے مرتبہ و درجہ اور وہاں پیش آنے والے حالات سے خبردار ہیں کہ کون کس حال میں کس دروازہ سے جنت میں جائے گا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت میں شفاعت کرنے والے بچوں کوبھی یہ پتہ ہوگا کہ ہمارے ماں باپ کب اور کس دروازے سے جنت میں جائیں گے۔حضور صلی الله علیہ وسلم تو شفاعت کبریٰ کے مالک ہیں،آپ کو ہر ایک کے ہرحال کی خبر ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ بچہ جنت کے ہر دروازے پر بیک وقت موجود ہوگا،اولیاء الله متعدد اجسام سے ایک وقت میں چند جگہ موجود ہوسکتے ہیں اور یہ ناممکن بھی نہیں،اجسام مثالی لاکھوں ہوسکتے ہیں،آئینہ خانہ میں اور ٹیلی ویژن میں ایک شخص کے ہزاروں عکس بیک وقت متعدد جگہ اور آئینہ میں موجود ہوجاتے ہیں،یہ فقط ایک مثال ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1756