Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1726

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ بُرْدَةَ قَالَ: أُغْمِيَ عَلیٰ أَبِيْ مُوسٰى فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهٗ أُمُّ عَبْدِ اللهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمِي؟ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَصَلَقَ وَخَرَقَ” . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَفْظُهٗ لِمُسْلِمٍ

وعن أبي بردة قال: أغمي علی أبي موسى فأقبلت امرأته أم عبد الله تصيح برنة ثم أفاق فقال: ألم تعلمي؟ وكان يحدثها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “أنا بريء ممن حلق وصلق وخرق” . (متفق عليه) ولفظه لمسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبردہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ بے ہوش ہوئے تو ان کی بیوی ام عبد الله چیخ کر روتی آئیں ۲؎پھر انہیں آرام ہوا تو فرمایا کیا تم جانتی نہیں آپ انہیں حدیث سنایا کرتے تھے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میں اس سے بیزار ہوں جو سر منڈائے،چیخیں مارے،کپڑے پھاڑے۳؎(مسلم،بخاری)لفظ مسلم کے ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عامر ابن عبد الله ابن قیس ہے،تابعین میں سے ہیں اورعبدالله ابن قیس یعنی ابوموسیٰ اشعری کے فرزند ہیں،حضرت علی کی طرف سے قاضی شریح کے بعد کوفہ کے قاضی رہے،پھر حجاج نے آپ کو معزول کیا۔۲؎رَنّةٌعربی میں رونے کی کانپتی آواز کو کہتے ہیں۔۳؎یعنی میں تمہیں ہمیشہ یہ حدیث سناتا رہا تم میرے جیتے جی ہی بھول گئیں۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ عرب میں بھی کسی کی موت پر سر منڈانے کا رواج تھا جیسے ہمارے ہاں ہندو سر،ڈاڑھی اورمونچھیں سب منڈوا دیتے ہیں جسے بھدرا کہتے ہیں،مگر مرد منڈاتے ہیں عورتیں نہیں یہ بھی بے حیائی کی علامت ہے۔خیال رہے کہ صحابہ کرام ایسی حالت میں تبلیغ اور اپنے بال بچوں کی اصلاح سے غافل نہیں رہتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1726