Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1732

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن أبي سعيد الخدري قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم النائحة والمستمعة. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور سننے والی پر لعنت فرمائی ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎سننے والی سے وہ عورت مراد ہے جو نوحہ سے راضی ہوکر کان لگاکر سنے جیسے غیبت کرنا اور خوشی سے سننا دونوں گناہ ہیں، ایسے ہی نوحہ کرنا اور سننا سب گناہ۔خیال رہے کہ اپنے گناہوں پر نوحہ کرنا عین عبادت ہے۔حضرت نوح علیہ السلام خوف خدا میں اتنا روتے تھے کہ آپ کا لقب ہی نوح ہوگیا،ورنہ آپ کا نامیَشْکُرْہے۔اس نوحہ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان بالکل بے گناہ ہو پھر اپنے کو گناہ گار کہے اور روئے یہ جھوٹ بھی عبادت ہے۔رب تعالٰی حضرت صدیق اکبرکو کہیںاَتْقیٰفرماتا ہے اور کہیںاُولُو الْفَضْلِمگر وہ خود سرکار یہ کہہ کر روتے ہیں الٰہی میرا کیا بنے گا میرے پاس کوئی نیکی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1732