Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1749

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: لَمَّا مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ ابْنِ عَليٍّ ضَرَبَتِ امْرَأَتُهُ القُبَّةَ عَلیٰ قَبْرِهٖ سَنَةً ثُمَّ رَفَعَتْ فَسَمِعَتْ صَائِحًا يَقُولُ: أَلَا هَلْ وَجَدُوا مَا فَقَدُوا؟ فَأَجَابَهٗ آخَرُ: بَلْ يَئِسُوا فَانْقَلَبُوا.

وعن البخاري تعليقا قال: لما مات الحسن بن الحسن ابن علي ضربت امرأته القبة علی قبره سنة ثم رفعت فسمعت صائحا يقول: ألا هل وجدوا ما فقدوا؟ فأجابه آخر: بل يئسوا فانقلبوا.

حدیث ترجمہ

روایت ہے بخاری سے تعلیقًا فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسن ابن حسن ابن علی ۱؎ فوت ہوئے تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک قبہ ڈالے رکھا ۲؎ پھر اٹھا لیا تو کسی پکارنے والے کو سنا جوکہتا تھا کیا انہوں نے جو کھویا تھا وہ پالیا دوسرے نے جواب دیا بلکہ مایوس ہوکر چل دیئے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا لقب حسین مثنی ہے،امام حسن کے فرزند علی مرتضٰے کے بڑے پوتے ہیں۔۲؎مرقات نے فرمایا کہ یہ قبہ احباب کے جمع ہونے اور ان کی قبر پر تلاوت قرآن و فاتحہ پڑھنے کے لیئے تھا عبث یا ناجائز نہ تھا کہ اہل بیت اطہار ایسا کام کبھی نہیں کرتے خصوصًا صحابہ کی موجودگی میں۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ خود آپ کی بیوی ایک سال تک اس قبہ میں حضرت حسن کی قبر پر رہیں۔ہوسکتا ہے کہ اس قبہ کے دو حصے ہوں ایک میں آپ رہتی ہوں اور دوسرے حصہ میں احباب جمع ہوکر فاتحہ پڑھتے ہوں۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بزرگ کے مزارات پر زائرین کی آسانی کے لیئے گنبد عمارت بناناجائزہے۔دوسرے یہ کہ وہاں مجاوروں کا بیٹھنا درست ہے یہ دونوں کام اہل بیت نبوت نے صحابہ کرام کی موجودگی میں کیئے کسی نے منع نہ کیا لہذا یہ دونوں عمل سنت صحابہ و سنت اہل بیت ہے اس کی بحث پہلے ہوچکی۔۳؎یہ آواز ہاتف غیبی کی تھی جس میں بتایا گیا کہ کسی کی موت پر بہت غم کرنا،گھر چھوڑ کر جنگل میں بیٹھ جانا مردے کو واپس نہیں لے آتا۔خیال رہے کہ یہ نداء ہم لوگوں کو سنانے کے لیئے ہے نہ کہ اہل بیت نبوت پر عتاب کے لیئے،انہوں نے کوئی ناجائز کام نہ کیا تھا اسی لیئے ا س ندا میں ڈانٹ ڈپٹ یا ان کے اس فعل پر حرام ہونے کا فتوی ٰ نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1749