Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1754

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَا مِنْ مُسْلِمِيْنِ يُتَوَفّٰى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهٖ إِيَّاهُمَا» . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّه! أَوْ اثْنَانِ؟ قَالَ: "أَوْ اثْنَانِ". قَالُوا: أَوْ وَاحِدٌ؟ قَالَ: «أَوْ وَاحِدٌ” . ثُمَّ قَالَ: “وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهٗ بِسَرَرِهِ الى الجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ مِنْ قَوْلِهٖ: “وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِهٖ”

وعن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “ما من مسلمين يتوفى لهما ثلاثة إلا أدخلهما الله الجنة بفضل رحمته إياهما» . فقالوا يا رسول الله! أو اثنان؟ قال: "أو اثنان". قالوا: أو واحد؟ قال: «أو واحد” . ثم قال: “والذي نفسي بيده إن السقط ليجر أمه بسرره الى الجنة إذا احتسبته” . رواه أحمد وروى ابن ماجه من قوله: “والذي نفسي بيده”

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایسے دو مسلمان نہیں جن کے تین بچے فوت ہوجائیں مگر الله اپنے فضل سے انہیں جنت میں داخل فرماتا ہے ۱∞؎لوگ بولے یارسول الله یا دو فرمایا يادو لوگ بولے یا ایک فرمایا یا ایک ۲؎پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کچا بچہ اپنی ماں کو اپنے نارو سے جنت کی طرف کھینچے گا جب کہ وہ طالب ثواب ہو۳؎(احمد)ابن ماجہ نے"وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ"سے روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎دو مسلمانو ں سے مراد ماں باپ ہیں جن کے چھوٹے بچے فوت ہوں اور وہ صبر کریں
۲
؎اس ترتیب سے کمال و نقصان کی طرف اشارہ ہے یعنی اول نمبر اور کامل مستحق رحمت تو وہ ہیں جوتین بچوں پرصبر کریں،پھر وہ بھی جو دو یا ایک پرصبرکریں کہ یہ دونوں پہلے کے ساتھ ملحق ہیں۔(مرقات)۲؎سَرَرْعربی میں نارو کو کہتے ہیں جو بچے کے ناف میں لمبا سا ہوتا ہے جسے دائی کاٹتی ہے اگرچہ وہ کاٹ کر پھینک دیا جاتاہے مگر قیامت میں اس بچے کے ساتھ ہوگا کیونکہ رب تعالٰی اجزائے بدن کو وہاں جمع فرمادے گا،حتی کہ قلفہ یعنی ختنہ کی کھال بھی وہاں موجود ہوگی،جیساکہ حدیث پاک میں ہے کہ اگرچہ یہ بچہ ماں باپ دونوں ہی کو جنت میں لے جائے گا مگر ماں کا ذکر خصوصیت سے اس لیئے فرمایا کہ ماں کو صدمہ زیادہ ہوتا ہے اور صبرکم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1754