Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1741

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ تَقُولُ: يَغْفِرُ اللهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهٗ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهٗ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ يَهُودِيَّةٍ يُبْكٰى عَلَيْهَا فَقَالَ: «إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عمرة بنت عبد الرحمن أنها قالت: سمعت عائشة وذكر لها أن عبد الله بن عمر يقول: إن الميت ليعذب ببكاء الحي عليه تقول: يغفر الله لأبي عبد الرحمن أما إنه لم يكذب ولكنه نسي أو أخطأ إنما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم علی يهودية يبكى عليها فقال: «إنهم ليبكون عليها وإنها لتعذب في قبرها »(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرہ بنت عبدالرحمان سے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کو سنا ان سے ذکر کیا گیا کہ عبد الله ابن عمر فرماتے ہیں کہ زندوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتاہے فرمانے لگیں الله ابو عبدالرحمان کو بخشے انہوں نے جھوٹ نہ بولا لیکن وہ بھول گئے یا خطا کر گئے ۱∞؎نبی صلی الله علیہ وسلم ایک یہودیہ پر گزرے جس پر رویا جارہا تھا تو فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہورہا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یا تو وہ حدیث کے خاص موقعہ کو بھول گئے یا خاص حدیث کو عام سمجھ کر خطا کر گئے۔کسی چیز کو بالکل بھول جانا نسیان ہے اور اس کے وصف کو بھول کر اس میں فرق کردینا خطا ہے۔۲؎یعنی اس مُردہ یہودیہ کو اس کے کفر کی وجہ سے یا زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب قبر ہورہا ہے۔حضرت ام المؤمنین کے فرمان کا منشاءیہ ہے کہ نوحہ سے مسلمان میت کو عذاب نہیں ہوتا بلکہ کفار کو ہوتا ہے،حضرت ابن عمر نے اسی کو عام سمجھ لیا یا یہ مطلب ہے وہاں عذاب تو کفر کی وجہ سے ہورہا تھا حضرت ابن عمر رونے کی وجہ سے سمجھ گئے لہذا ان سے بھول ہوئی یا خطاء۔خیال رہے کہ یہ حضرت ام المؤمنین کا اجتہادہے ورنہ نوحہ کے عذاب کے متعلق عام حدیثیں بھی آئی ہیں جو آپ تک نہ پہنچیں۔اس مسئلے کےمتعلق تحقیق وہ ہی ہے جو ہم عرض کرچکے کہ اگر میت اس رونے پیٹنے کی وصیت کر گیا ہو تو عذاب پائیگا یا یہ مطلب ہے کہ مرنے والے کو مرتے وقت یا مرنے کے بعد اس شور و پکار سے تکلیف ہوتی ہے جیسے اسے تلاوت قرآن وغیرہ سے راحت حاصل ہوتی ہےکیونکہ میت کی روح کو موذی چیزوں سے ایذا اور آرام دہ چیزوں سے راحت ہوتی ہے اسی لیئے قبر پر چلنے،اس کا تکیہ لگانے سے میت کو ایذاءہوتی ہے اس کے لیئے مرقات یہ ہی مقام دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1741