- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- حدیث نمبر 1742
باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1742
جنازوں کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: تُوُفِّيَتْ بِنْتٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ: أَلَا تَنْهٰى عَنْ الْبُكَاءِ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهٖ عَلَيْهِ” . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذٰلِكَ . ثُمَّ حَدَّثَ فَقَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتّٰى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ فَإِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ فَقَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ؟ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ. قَالَ: فَأَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ: ادْعُهٗ فَرَجَعْتُ إِلٰى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي يَقُول: وَاأَخَاهُ وَاصَاحِبَاهُ فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبَ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهٖ عَلَيْهِ؟” فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذٰلِكَ لعَائِشَة فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللهُ عُمَرَ لَا وَاللهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبَ بِبُكَاءِ أَهْلِهٖ عَلَيْهِ وَلَكِنْ: إِنَّ اللهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهٖ عَلَيْهِ. وَقَالَتْ عَائِشَةُ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ: (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرٰى) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذٰلِكَ: وَاللّٰهُ أَضْحَكَ وأَبْكٰى. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَمَا قَا لَ ابْنُ عُمَرَ شَيْئًا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن عبد الله بن أبي مليكة قال: توفيت بنت لعثمان بن عفان بمكة فجئنا لنشهدها وحضرها ابن عمر و ابن عباس فإني لجالس بينهما فقال عبد الله بن عمر لعمرو بن عثمان وهو مواجهه: ألا تنهى عن البكاء؟ فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه” . فقال ابن عباس : قد كان عمر يقول بعض ذلك . ثم حدث فقال: صدرت مع عمر من مكة حتى إذا كنا بالبيداء فإذا هو بركب تحت ظل سمرة فقال: اذهب فانظر من هؤلاء الركب؟ فنظرت فإذا هو صهيب. قال: فأخبرته فقال: ادعه فرجعت إلى صهيب فقلت: ارتحل فالحق أمير المؤمنين فلما أن أصيب عمر دخل صهيب يبكي يقول: واأخاه واصاحباه فقال عمر: يا صهيب أتبكي علي وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إن الميت ليعذب ببعض بكاء أهله عليه؟” فقال ابن عباس : فلما مات عمر ذكرت ذلك لعائشة فقالت: يرحم الله عمر لا والله ما حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه ولكن: إن الله يزيد الكافر عذابا ببكاء أهله عليه. وقالت عائشة: حسبكم القرآن: (ولا تزر وازرة وزر أخرى) قال ابن عباس عند ذلك: والله أضحك وأبكى. قال ابن أبي مليكة: فما قا ل ابن عمر شيئا (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
ٍ∞روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی ملیکہ سے فرماتے ہیں کہ عثمان ابن عفان کی بیٹی مکہ میں فوت ہوئیں ۱∞؎تو ہم جنازہ میں شرکت کے لیئے آئے وہاں ابن عمر اور ابن عباس بھی تھے میں ان دونوں بزرگوں کے درمیان بیٹھا تھا ۲؎تو عبد الله ابن عمر نے ابن عثمان سے جو ان کے سامنے تھے فرمایا کیا تم رونے سے منع نہیں کرتے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتاہے۳؎حضرت ابن عباس بولے کہ جناب عمربھی کچھ ایسا ہی کہتے تھے پھر آپ نے قصہ سنایا فرمایا کہ میں حضرت عمر کے ساتھ مکہ سے لوٹا حتی کہ جب ہم مقام بیداء میں تھے۴؎تو ایک خاردار درخت کے سائے کے نیچے ایک قافلہ تھا نظر پڑی آپ نے فرمایا جاؤ دیکھو یہ سوار کون ہے میں نے دیکھا تو حضرت صہیب تھے فرماتے ہیں میں نے آپ کو خبر دی فرمایا انہیں بلالو ۵؎میں حضرت صہیب کے پاس لوٹ گیا میں نے کہا چلو امیر المؤمنین کے ساتھ مل جاؤ پھر جب حضرت عمر شہید کیے گئے تو ۶؎صہیب روتے ہوئے آئے کہتے تھے ہائے میرے بھائی ہائے میرے ساتھی جناب عمر نے فرمایا اے صہیب کیا تم مجھ پر روتے ہو حالانکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیاجاتاہے ۷؎حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب عمر فاروق نے وفات پائی تو میں نے حضرت عائشہ سے اس کا ذکر کیا آپ بولیں الله عمر پر رحم کرے رب کی قسم رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیاجاتاہے لیکن الله کافر کا عذاب اس کے اہل کے رونے سے بڑھا دیتا ہے ۸؎حضرت عائشہ نے فرمایا تمہیں قرآن کافی ہے کہ کوئی بوجھل جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی ۹؎اس وقت حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ الله ہنساتا رولاتا ہے ۱۰؎ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے کچھ نہ فرمایا ۱۱∞؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎ہم "باب الجمعہ"میں عرض کرچکے ہیں کہ حضرت عثمان غنی نے اپنا ایک گھر مکہ معظمہ میں رکھا تھا جہاں ایک بیوی صاحبہ رہتی تھیں غالبًا یہ ان کی بیٹی تھی۔۲؎یعنی مجھے ان بزرگوں سے بہت قرب تھا لہذا میں نے جو کچھ ان سے سنا وہ ٹھیک سنا کیونکہ ان سے دور نہ تھا۔۳؎لہذا اس رونے سے تمہاری ہمشیرہ کی روح کو عذاب ہوگا۔خیال رہے کہ حضرت ابن عمر نے رونے اور نوحہ میں فرق نہ کیا،نیز مؤمن و کافر میں فرق نہ کیا۔۴؎حضرت عمر حج کے لیئے مکہ مکرمہ گئے،میں واپسی میں آپ کے ہمراہ تھا جب ہم مقام بیداء میں جو ذوالحلیفہ سے متصل ہے پہنچے تو یہ واقعہ ہوا۔۵؎تاکہ ہم اور صہیب ساتھ ساتھ مدینہ منورہ چلیں،حضرت عمر کو جناب صہیب سے بہت محبت تھی۔۶؎یعنی زخمی کئے گئے جس سے آپ کی شہادت واقع ہوئی،آپ کو اواخر ذی الحجہ میں محراب النبی میں بحالت نماز فجر ابولولو یہودی نےخنجر سے زخمی کیا اسی حال میں آپ گھر لائے گئے،تب یہ واقعہ پیش آیا۔۷؎یعنی میں قریب وفات ہوں اور تم مجھ پر رو رہے ہو اور میں نے حضورصلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے ڈرتا ہوں کہ اس کی زد میں نہ آجاؤں،یہ حضرت عمر کا انتہائی تقویٰ تھا ورنہ حدیث پاک میں بعد وفات رونے یا نوحہ کا ذکر ہے۔خیال رہے کہ حضرت صہیب کا یہ کہنا نوحہ نہیں کہ نوحہ یہ ہے کہ میت میں ایسے اوصاف بیان کیئے جائیں جو اس میں نہ ہوں اور بے صبری کے الفاظ بولے جائیں۔بھائی ساتھی یہ الفاظ نوحہ کے ہوسکتے ہی نہیں لہذا حضرت صہیب پر یہ اعتراض نہیں کہ آپ نے نوحہ کیوں کیا،دیکھو حضرت فاطمہ زہرہ نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات پر اس قسم کے بہت سے الفاظ فرمائے مگر وہ سب درست تھے جیسا کہ ہم پہلےعرض کرچکے۔۸؎یعنی حضور انورصلی الله علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہی نہیں ہے،بلکہ واقعہ یہ ہے ام المؤمنین کا یہ فرمانا اسی لیئے ہے کہ آپ کو یہ حدیث پہنچی نہیں۔۹؎یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم یہ کیسے فرماتے،یہ فرمان تو قرآنی آیت کے خلاف ہے،مگرحق یہ ہے کہ آیت میں عذاب اخروی کی نفی ہے اور حدیث میں پریشانی دل کا ذکر ہے اور لہذا حدیث قرآن کریم کے خلاف نہیں۔۱۰؎حضرت ابن عباس نے اس آیت سے حضرت عائشہ صدیقہ کی تائید کی یعنی آیت سے معلوم ہورہا ہے ہنسانا رولانا رب کا ہے۔آنکھ کے آنسو،دل کا صدمہ بندے کے قبضے میں نہیں تو اس پر عذاب کیسے ہوسکتا ہے کیونکہ وہ اختیاری گناہ پرہوتا ہے آنسو نہ گناہ ہیں نہ اختیاری ہیں،نیز رب نے بعض صورتوں میں رونے کی اجازت دی ہے تو ہر رونا گناہ کیسے ہوگا۔بہرحال آیت سے مسئلہ عائشہ صدیقہ کی تائیدمقصودہے۔۱۱∞؎یعنی حضرت ابن عمرنے حضرت ابن عباس کی نہ تائید کی نہ تردید مناظرہ بندکردیا۔معلوم ہوتاہے ابن عمر اپنے اجتہاد پرقائم رہے مگر حضرت ابن عبا س کی مخالفت نہ کی۔اس سے معلوم ہوا کہ مجہتد دوسرے مجتہد کی خطا پکڑ سکتا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ مجتہد پر دوسرے مجتہد کی ہر دلیل مان لینا بھی ضروری نہیں اور جواب دینا بھی لازمی نہیں،اس سے اجتہاد و تقلید کے بہت مسائل ہوسکتے ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1742