Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1748

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَتِ النِّسَاءُ فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهٖ فَأَخَّرَهٗ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهٖ وَقَالَ: «مَهْلًا يَا عُمَرُ» ثُمَّ قَالَ: “إِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ” ثُمَّ قَالَ: “إِنَّهٗ مَهْمَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَمِنَ الْقَلْبِ فَمِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَةِ وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَمِنَ اللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ” . رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن ابن عباس قال: ماتت زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فبكت النساء فجعل عمر يضربهن بسوطه فأخره رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده وقال: «مهلا يا عمر» ثم قال: “إياكن ونعيق الشيطان” ثم قال: “إنه مهما كان من العين ومن القلب فمن الله عز وجل ومن الرحمة وما كان من اليد ومن اللسان فمن الشيطان” . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ زینب بنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم فوت ہوئیں عورتیں روئیں تو جناب عمر انہیں کوڑے سے مارنے لگے ۱∞؎انہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ہٹا دیا فرمایا اے عمر چھوڑو بھی پھر فرمایا شیطانی آواز سے پرہیز کرنا پھر فرمایا جو کچھ آنکھ اور دل سے ہو۲؎تو وہ الله کی طرف سے ہے اور رحمت ہے اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو وہ شیطان کی طرف سے ہے۔(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ کی شرح ہے۔عمر فاروق نے ابھی کوڑے کسی کو مارے نہ تھے بلکہ مارنا چاہتے تھے جس سےحضور صلی الله علیہ وسلم نے روک دیا اس ارادہ کی وجہ وہی ہے جو ابھی عرض کرچکے کہ آپ مطلقًا رونے کو بھی نوحہ سمجھتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر طاقت ہو تو برائی کو ہاتھ سے روکے ورنہ زبان سے اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو دل سے برا جانے۔۲؎یعنی دل کا رنج اور آنکھ کے آنسو بندے کے اختیار میں نہیں یہ قدرتی چیز ہے دل میں رقت اور رحمت کا نتیجہ ہیں اور زبان سے بکواس ہاتھ سے ماتم شیطانی عمل ہے بندہ اپنے اختیار اور شیطان کے بہکانے سے کرتا ہے۔خیال رہے کہ ہر اچھے برے کام کا خلق رب کی طرف سے ہے مگر نسبت میں ادب چاہیئے اچھے کام کو رب کی طرف منسوب کرو اور برے کو شیطان کی جانب یا اپنی طرف نسبت دو،اس حدیث میں اسی جانب اشارہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1748