Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1743

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرَ وَابْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ تَعْنِي شِقَّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرَ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ فَأَمَرَهٗ أَنْ يَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ لَمْ يُطِعْنَهٗ فَقَالَ: انْهَهُنَّ فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ قَالَ: وَاللهِ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَزَعَمْتُ أَنَّهٗ قَالَ: “فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ” . فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللهُ أَنْفَكَ لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَتْرُكْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: لما جاء النبي صلى الله عليه وسلم قتل ابن حارثة وجعفر وابن رواحة جلس يعرف فيه الحزن وأنا أنظر من صائر الباب تعني شق الباب فأتاه رجل فقال: إن نساء جعفر وذكر بكاءهن فأمره أن ينهاهن فذهب ثم أتاه الثانية لم يطعنه فقال: انههن فأتاه الثالثة قال: والله غلبننا يا رسول الله فزعمت أنه قال: “فاحث في أفواههن التراب” . فقلت: أرغم الله أنفك لم تفعل ما أمرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم تترك رسول الله صلى الله عليه وسلم من العناء (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو ابن حارثہ جعفر اور ابن رواحہ کی شہادت کی خبرملی تو آپ بیٹھے کہ آپ میں رنج وغم محسوس ہوتا تھا ۱∞؎میں دروازے کے جھیرے یعنی دروازے کے شگاف سے دیکھ رہی تھی کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا بولا کہ جعفر کی عورتیں اور ان کے بہت رونے کا ذکر کیا آپ نے اسے حکم دیا کہ انہیں منع کرے ۲؎وہ گیا پھر دوبارہ آیا کہ انہوں نے اس کی بات نہ مانی فرمایا انہیں منع کرو وہ تیسری بار آیا بولا یارسول الله رب کی قسم وہ ہم پر غالب آگئیں مجھے خیال ہے آپ نے فرمایا تو ان کے منہ میں خاک ڈالو۳؎میں بولی خدا تیری ناک رگڑ دے تو وہ تو کرے گا نہیں جس کا تجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا مگر تو نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو رنج دیئے بغیر نہ چھوڑا ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ اس موقع پر مسجد نبوی میں بیٹھے تھے،چہرے پر ملال و غم کے آثار نمایاں تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ تعزیت کے لیئے بیٹھنا سنت ہے اور مسجد میں بیٹھنا بھی جائز ہے۔تعزیت کی حدتین دن ہے کسی کی موت ہوجانے پر میت والے تین دن تک چٹائی بچھاکر بیٹھتے ہیں لوگ تعزیت اور فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں اس کی اصل یہ حدیث بھی ہے۔۲؎چیخ کر رونے سے منع کرے نہ کہ آنسو بہانے سے،مگر امر استحبابی تھا یعنی چونکہ اس رونے میں نوحہ پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہے اس لیئے اس سے انہیں روکے،وہ بیبیاں نوحہ نہ کررہی تھیں لہذا کوئی اعتراض نہیں۔۳؎یعنی اگر تو کرسکتا ہے تو ان کے منہ میں خاک ڈال آ تاکہ وہ رو نہ سکیں یا یہ مطلب ہے کہ خاک ڈال،خاموش ہوجا،اپنا کام کر،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔مطلب یہ ہے کہ زور سے رونا گناہ کبیرہ تو ہے نہیں صرف گناہ صغیرہ ہے اور صدمہ نیا ہے تیرے منع کرنے کو انہوں نے سنا بھی نہ ہوگا لہذا جانے دے خاک ڈال۔۴؎یعنی اےشخص!تو حضورصلی الله علیہ وسلم کے فرمان کے ظاہری معنے پرعمل نہ کرسکے گا اور وہاں جاکر ان کے منہ میں خاک نہ ڈال سکے گا مگر تو نے ان بیبیوں کی بار بار شکایت کرکے حضور انورصلی الله علیہ وسلم کو صدمہ پر صدمہ پہنچایا۔معلوم ہوا کہ ایسے صدمہ و غم کے وقت بزرگوں کی پریشانی بڑھانا نہ چاہیئے،معمولی باتوں کا یا تو خود ہی انتظام کردے یا خاموش ہوجائے ہر شکایت شاہوں کو نہ پہنچائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1743