Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1733

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجَبٌ لِلْمُؤْمِنِ: إِنْ أَصَابَهٗ خَيْرٌ حَمِدَ اللَّه وَشَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ اللَّهَ وَصَبَرَ، فَالْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ أَمْرِهٖ حَتّٰى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلٰى فِي امْرَأَتِهٖ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ

وعن سعد بن أبي وقاص قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " عجب للمؤمن: إن أصابه خير حمد الله وشكر، وإن أصابته مصيبة حمد الله وصبر، فالمؤمن يؤجر في كل أمره حتى في اللقمة يرفعها إلى في امرأته. رواه البيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عجیب ہے مؤمن کے لیے اگر اسے بھلائی پہنچے تو الله کی حمد اور شکر کرے اور اگر مصیبت پہنچے تو الله کی حمد اور صبر کرے ۱∞؎مؤمن کو ہر چیز میں ثواب ملتا ہے حتی کہ لقمہ میں بھی جو اپنی بیوی کے منہ تک پہنچاتا ہے ۲؎(بیہقی ،شعب الایمان )۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ ایمان نصف اس کا صبر ہے اور نصف دیگر شکر،رب فرماتاہے:"لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍشکر کو صبر پر اس لیئے مقدم کیا کہ خدا کی طرف سے نعمتیں زیادہ ہیں تکلیفیں کم لہذا شکر کے موقع بہت ہیں ورنہ صبرشکر سے افضل ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ صبرتین قسم کا ہے:نیکی پر صبر،گناہ سے صبر اور مصیبت میں صبر۔۲؎یعنی اسے کماکرکھلاتا ہے جب کہ ادائے سنت کی نیت سے ہو۔اس سےمعلوم ہوا کہ نیت خیر سے مباح کام ثواب ہوجاتے ہیں اور عادات عبادات بن جاتی ہیں،عالِم کا سونابھی عبادت ہے۔۳؎یہاں مرقات نے فرمایا اس کی اسناد میں عمرو ابن سعد ہے۔یہ ثقہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ قتل حسین میں شمر کا ساتھی تھا لہذا حدیث سخت ضعیف ہے مگر چونکہ فضائل میں ہے اس لیئے قابل رد نہیں اسی لیے دیکھا گیا ہے کہ مسلم بخاری کی بعض اسنادوں میں کہیں کہیں رافضی اور خارجی بھی آگئے ہیں۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1733