Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1744

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلْمَةَ قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ لَأَبْكِيَنَّهٗ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخُلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللهُ مِنْهُ؟” مَرَّتَيْنِ وَكَفَفْتُ عَنْ الْبُكَاءِ فَلَمْ أَبْكِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أم سلمة قالت: لما مات أبو سلمة قلت غريب وفي أرض غربة لأبكينه بكاء يتحدث عنه فكنت قد تهيأت للبكاء عليه إذ أقبلت امرأة تريد أن تسعدني فاستقبلها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: “أتريدين أن تدخلي الشيطان بيتا أخرجه الله منه؟” مرتين وكففت عن البكاء فلم أبك. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ جب ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں بولی کہ مسافر تھے اور جو اجنبی زمین میں فوت ہوئے تو ان پر ایسا روؤں گی کہ اس کا چرچا ہوجائے ۱؎ میں ان پر رونے کی تیاری کررہی تھی کہ ایک عورت میری امداد کے ارادے سے آئی ۲؎ اس کے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا کیا تم چاہتی ہوکہ شیطان کو اس گھر میں داخل کردو جہاں سے الله نے اسے دو مرتبہ نکالا ۳؎ میں رونے سے باز رہی پھر نہ روئی ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اسلام سے پہلے عرب میں میت پر رونے پیٹنے کا عام رواج تھا اور اس پرفخر کیاجاتا تھا کہ ہمارے فلاں میت پر بہت رویا پیٹا گیا اسی عادت کے مطابق آپ نے یہ ارادہ کیا ابو سلمہ مکی تھے مدینہ منورہ میں آپ کا کوئی عزیز و رشتہ دار نہ تھا سفر کی موت بہت حسرت کی ہوتی ہے سمجھا جاتا ہے کہ مسافر کی قبر پر کوئی فاتحہ بھی نہ پڑھے گا اس لیئے آپ کو بہت صدمہ ہوا۔۲؎اس زمانہ میں نوحہ اور پیٹنے کا بھی قرض ہوتا تھا اگر ایک عور ت دوسرے کے ہاں موت پر پیٹ آتی تھی تو یہ اس کے ہاں موت کے وقت پیٹنے ضرورجاتی تھی جیسے آج بیاہ شادی میں نیوتہ قرض مانا جاتاہے ایسے ہی وہاں نوحہ اور رونا پیٹنا بھی قرض ہوتا تھا۔وہ بیوی شاید زمانۂ جاہلیت میں حضرت ام سلمہ کی مقروض تھی۔۳؎یا تو دو مرتبہ سے مراد ہے بار بار،جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"ارْجِعِ الْبَصَرَکَرَّتَیۡنِ"یا دوسری مرتبہ ہی مراد ہے ایک بار حضرت ابو سلمہ کے اسلام لاتے وقت اور دوسری بار آپ کے ہجرت کرتے وقت یا ایک بار سے مراد ہے حبشہ کی طرف ہجرت کرنا اور دوسری سے مراد مدینہ پاک کی طرف ہجرت کیونکہ حضرت ابوسلمہ صاحب ہجرتین ہیں،شیطان کے نکالنے سے اس کے اثر کا دُورکرنا مرادہے ورنہ خود شیطان تو مکھی کی طرح ہر جگہ پہنچا ہی رہتاہےیعنی جس گھر سے بار بار شیطانی اثر دور ہوتا رہا اب اس میں شیطانی کام کرکے اس اثرکو کیوں پھیلاتی ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ گناہ ہر جگہ ہی گناہ ہے مگر بزرگوں کے مکان اور مقدس جگہوں میں زیادہ برا۔۴؎یعنی یہ فرمان عالی سن کر میں نوحہ اور پیٹنے سے باز رہی۔یہاں رونے سے مراد پیٹنا اورنوحہ ہے نہ کہ آنسوؤں سے رونا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1744