Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1727

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ ". وَقَالَ: “النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدَرْعٌ مِنْ جَرَبٍ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي مالك الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " أربع في أمتي من أمر الجاهلية لا يتركونهن: الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة ". وقال: “النائحة إذا لم تتب قبل موتها تقام يوم القيامة وعليها سربال من قطران ودرع من جرب” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میری امت میں جہالت کی چار باتیں ہیں جنہیں وہ نہ چھوڑیں گے:قومی فخر،نسب میں طعنے اور تاروں سے بارش مانگنی اور نوحہ ۱∞؎فرمایا اگر نوحہ والی موت سے پہلے توبہ نہ کرلے تو قیامت میں اس طرح کھڑی ہوگی کہ اس پر رال کا لباس اور جرب کی قمیص ہوگی۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں غیبی خبر ہے جو بالکل سچی ہوئی،مسلمانوں میں اب تک عمومًا چاروں عیوب موجود ہیں۔کبھی حسب اور نسب ایک ہی معنی میں آتے ہیں مگر کبھی یوں فرق کردیتے ہیں کہ اماں کی طرف سے رشتوں کا نام حسب ہے اور باپ کی طرف کا نام نسب۔کبھی اس طرح کہ باپ دادوں کے اوصاف شمارکرنا حسب جب کہ ان کی قومیت و ذات بتاتے پھرنا نسب۔کفار کے مقابلہ میں حسب و نسب پر فخرکرنابھی عبادت ہے۔حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے جنگ حنین میں کفار سے فرمایااَنَا اِبْنُ عَبْد الْمُطَّلِب(جانتے ہو میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں)مگر مسلمان کے کسی نسب کو ذلیل جاننا یا انہیں کمین کہنا حرام ہےمسلمان شریف ہیں اگرچہ سیدحضرات حضورصلی الله علیہ وسلم کی نسبت کی وجہ سے اشرف ہیں مگر انہیں بھی کسی مسلمان کو کمین کہنے کا کوئی حق نہیں،ہاں مسلمانوں کو ان کا احترام کرنا چاہیے۔نسب انبیاء الله کی رحمت ہے۔اس کی پوری تحقیق ہماری "کتاب الکلام المقبول فی شرافۃ نسب الرسول" میں ملاحظہ کیجئے۔تاروں سے اوقات معلوم کرنا اور راستوں و سمتوں کا پتہ لگانا جائز ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَبِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ"مگر ان میں بارش وغیرہ کی تاثیریں ماننا اور ان سے غیبی خبریں معلوم کرنا حرام ہے،لہذا علم نجوم باطل ہے علم توقیت حق۔مردے کے سچے اوصاف بیان کرنا مذبہ کہلاتا ہے اوراس کے جھوٹے اوصاف بیان کرکے رونا نوحہ ہے۔مذبہ جائز ہے،نوحہ حرام۔حضرت فاطمۃ الزہرہ نے حضور صلی الله علیہ وسلم پر مذبہ کیا تھا نوحہ نہیں۔۲؎رال میں آگ جلدلگتی ہے اور سخت گرم بھی ہوتی ہے۔جرب وہ کپڑا ہے جو سخت خارش میں پہنایاجاتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ نائحہ پر اس دن خارش کا عذاب مسلّط ہوگا کیونکہ وہ نوحہ کرکے لوگوں کے دل مجروح کرتی تھی تو قیامت کے دن اسے خارش سے زخمی کیاجائے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ نوحہ خواہ عملی ہو یا قولی سخت حرام ہے،چونکہ اکثرعورتیں ہی نوحہ کرتی ہیں اس لیے عمومًا نائحہ تانیث کا صیغہ فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1727