Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1759

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُهَا وَإِنْ طَالَ عَهْدُهَا فَيُحْدِثُ لِذٰلِكَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى لَهٗ عِنْدَ ذٰلِكَ فَأَعْطَاهُ مِثْلَ أَجْرِهَا يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ

وعن الحسين بن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: “ما من مسلم ولا مسلمة يصاب بمصيبة فيذكرها وإن طال عهدها فيحدث لذلك استرجاعا إلا جدد الله تبارك وتعالى له عند ذلك فأعطاه مثل أجرها يوم أصيب بها” . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حسین ابن علی سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں ایسا کوئی مسلمان مرد عورت نہیں جسے کوئی مصیبت پہنچی ہوئی اگرچہ پرانی ہوچکی ہو اسے یاد آجائے تواِنَّا لِلّٰہپڑھ لے ۱∞؎مگر الله تعالٰی اسے اس وقت نیا ثواب دیتا ہے ویسا ہی ثواب جو مصیبت پہنچنے کے دن دیا تھا ۲؎(احمد،بیہقی ،شعب الایمان )

شرح حدیث

۱∞؎یاد آجانا اور ہے یادکرنا،یاد دلانا کچھ اور پہلی چیز قدرتی ہے جس پر ثواب ہے اور آخری دو چیزیں مصنوعی ہیں جن پر عذاب۔الله کی نعمتوں کو یاد رکھنا ا ور شکر کرنا ثواب ہے مگر اس کی بھیجی مصیبتوں کو بھول جانا ثواب ہے اسی لیے اسلام میں خوشی کی یادگاریں منانا سنت ہے مگر غم کی یادگاریں قائم کرنا حرام۔ربیع الاول میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی ولادت بھی ہے اور وفات بھی مگر اس مہینہ میں عیدِمیلاد منائی جاتی ہے نہ کہ غم وفات،حتی کہ اس مہینہ کو بارہ وفات کہنا بھی ناجائز ہے،ہاں ایصال ثواب کے لیئے کسی کی تاریخ وفات مناناجائز ہے نہ کہ رونے پیٹنے کے لیئے۔اسی لیئے فقہاء فرماتے ہیں کہ محرّم میں سید الشہداءامام حسین رضی الله عنہ کی یادگار قائم کرنے،ایصال ثواب کرنے،ان کا ذکر کرنے اور سننے کے لیئے مجلسیں منعقدکرنا ثواب ہے۔اس دوران میں اگر رونابھی آجائے تو مضائقہ نہیں مگر رونے پیٹنے کی غرض سے تعزیت کی مجلس منعقدکرنا حرام ہے کہ میت کے غم کی مجلس صرف تین دن تک منعقد کرسکتے ہیں،لہذا اس حدیث سےشیعہ حضرات دلیل نہیں پکڑ سکتے۔۲؎کیونکہ اگرچہ مصیبت پرانی ہوچکی مگر تکلیف تو نئی ہوئی جیسے پرانی نعمت کے نئے شکر پر نیا ثواب ملتا ہے ایسے ہی پرانی مصیبت کے نئے صبرپر نیا ثواب ملے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1759