Main Icon

باب : میت پر رونے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1728

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ: “اتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي” قَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي وَلَمْ تَعْرِفْهُ فَقِيلَ لَهَا: إِنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَأَتَتْ بَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهٗ بَوَّابِينَ فَقَالَتْ: لَمْ أَعْرِفْكَ. فَقَالَ: “إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولٰى”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم بامرأة تبكي عند قبر فقال: “اتقي الله واصبري” قالت: إليك عني فإنك لم تصب بمصيبتي ولم تعرفه فقيل لها: إنه النبي صلى الله عليه وسلم . فأتت باب النبي صلى الله عليه وسلم فلم تجد عنده بوابين فقالت: لم أعرفك. فقال: “إنما الصبر عند الصدمة الأولى”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک عورت پرگزرے جو قبر کے پاس رو رہی تھی فرمایا الله سے ڈر اور صبرکر وہ بولی میرے پاس سے ہٹ جائیے آپ کو میری سی مصیبت نہیں پہنچی اس نے حضورکو پہچانا نہیں ۱∞؎تو اسے بتایا گیا یہ تو نبی صلی الله علیہ وسلم تھے تو وہ حضور کے آستانہ پر آئی نبی صلی الله علیہ وسلم کے ہاں کوئی دربان نہ پایا ۲؎عرض کیا حضور میں نے آپ کو پہچانا نہیں فرمایا صبرشروع صدمے پر ہی ہوتا ہے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ نہ پہچاننابھی شدت غم سے ہوگا ورنہ وہ تو اہل مدینہ سےتھی،آپ کو تو باہر کے اجنبی لوگ بھی پہچان لیتے تھے،گلی سے گزرتے تو گھروں والے خوشبو کی مہک سے پہچان جاتے،آپ کو تو کنکرپتھر،جن و انس،چاند تارے،سورج پہچانتے ہیں۔خیال رہے کہ جو کچھ اس نے کہا یہ لفظ کفر تھا کہ ا س میں حضورصلی الله علیہ وسلم کی توہین ہے،مگر چونکہ غم کی مدہوشی میں حضور صلی الله علیہ وسلم کو بغیر پہچانے کہا ہے اس لیے وہ اسلام سے خارج نہ ہوئی۔فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر جانکنی کی شدت میں مرنے والے سے کوئی کفر کی بات سنی جائے تو اسے کافر نہ کہا جائے گا اس کی نماز جنازہ اور دفن ہوگا کیونکہ مدہوشی کا کفرمعتبرنہیں،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔۲؎آئی معافی مانگنے،اس خیال میں تھی کہ شہنشاہ کونین کا آستانہ ہے،دروازۂ عالیہ پر بہت دربان ہوں گے نہ معلوم میں وہاں پہنچ سکوں یا نہیں اور معذرت کرسکوں یا نہیں،یا تو کہیں باہر کی تھی یا یہ خیال بھی اس غم کی مدہوشی میں تھا ورنہ مدینہ کی عورتیں آستانہ پاک پر حاضر ہوتی رہتی تھیں۔۳؎یعنی شروع صدمہ پر دل میں جوش ہوتاہے،اس وقت اس جوش کو روکنا بڑے بہادروں کا کام ہے۔صبر سے مراد کامل صبر ہے جس پر بہت ثواب ملے۔حضورصلی الله علیہ وسلم نے اس بی بی کو نہ اپنی بے ادبی سے توبہ کرائی اور نہ گزشتہ رونے پیٹنے سے کیونکہ وہ معذور تھی بلکہ آئیندہ کے لیے نصیحت فرمادی۔قبر پر جاکر رونا منع نہیں وہاں پیٹنا منع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1728