Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 279

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ، تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، فَإِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ، وَالْعِلْمُ سَيَنْقَبِضُ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفَ اثْنَانِ فِي فَرِيضَةٍ لَا يَجدَانِ أَحَدًا يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.

وعن ابن مسعود قال: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "تعلموا العلم وعلموه الناس، تعلموا الفرائض وعلموها الناس، تعلموا القرآن وعلموه الناس، فإني امرؤ مقبوض، والعلم سينقبض، وتظهر الفتن حتى يختلف اثنان في فريضة لا يجدان أحدا يفصل بينهما". رواه الدارمي والدارقطني.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ ۱؎میں وفات پانے والا ہوں علم عنقریب اٹھ جائے گا فتنے ظاہر ہوں گے حتی کہ دو شخص ایک فریضہ میں جھگڑیں گے ایسا کوئی نہ پائیں گے جو ان میں فیصلہ کردے ۲؎اسے دارمی اور دارقطنی نے روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎فرائض سےمراد اسلامی فرائض،روزے،نماز وغیرہ کے مسائل ہیں،یا علم میراث۔دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں جیسا کہ اگلےمضمون سے معلوم ہورہا ہے اگرچہ علم اور قرآن میں یہ بھی آگیا تھا مگر زیادتی اہتمام کے لیئے خصوصیت سے اس کا علیحدہ ذکر فرمایا۔
۲
؎یعنی ابھی تو تم کو آسانی ہے کہ ہرمسئلہ مجھ سے پوچھ لو،میرے بعدایک وقت دشواری پیش آئے گی کہ علماء اٹھ جائیں گے یہاں تک کہ اگرایک میت کی میراث بانٹنی ہوگی تو مفتی نہ ملے گا۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں دو سے مرادمیت کے دو وارث ہیں اورفریضہ سے مراد مسئلہ میراث اورہوسکتا ہے کہ فریضہ سے کوئی اور مسئلہ شرعی مراد ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 279