Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 272

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ: اللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله قال: يا أيها الناس من علم شيئا فليقل به، ومن لم يعلم فليقل: الله أعلم، فإن من العلم أن تقول لما لا تعلم: الله أعلم. قال الله تعالى لنبيه: قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہسے فرمایا اے لوگو!جو کوئی کچھ جانتا ہوتو بیان کردے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دےاللہجانے ۱؎کیونکہ علم یہ ہی ہے جسے تم نہ جانو تو کہہ دواللہجانے ۲؎اللہتعالٰی نے اپنے نبی سے فرمایا کہ فرمادو میں نبوت پر تم سے اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث موقوف ہے یعنی حضرت عبداللہابن مسعود کا اپنا فرمان۔مقصد یہ ہے کہ کوئی عالم اپنی بے علمی ظاہرکرنے میں شرم نہ کرے،اگر کوئی مسئلہ معلوم نہ ہوتو گھڑکر نہ بتائے ہماری بے علمی علم سے زیادہ ہے رب فرماتا ہے:"وَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیۡلًا" فرشتوں نے عرض کیا تھا:"لَا عِلْمَ لَنَاۤ" حضرت علی سے سرمنبر کوئی مسئلہ پوچھا گیا آپ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں، وہ گستاخ بولا کہ آپ بے علمی کے باوجود منبر پر کیوں کھڑے ہوگئے؟ آپ نے فرمایا کہ میں بقدرعلم منبر پر چڑھا ہوں اگر بقدر جہالت چڑھتا تو آسمان پرپہنچ جاتا۔(مرقاۃ)
۲
؎یعنی اپنی بے علمی جاننا بھی علم ہے،اپنی جہالت سے ناواقف ہونا جہل مرکب،مفتیان کرام فتوے کے آخر میں لکھتے ہیں"اﷲ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ"وہ یہاں سے اخذ ہے۔
۳
؎حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اولین و آخرین سب سے بڑے عالم،تمام جہان کے معلم ہیں مگر انہیں حکم دیا گیا جس چیز کا علم آپ کو اب تک نہ دیا گیا ہو بتکلف نہ بتائیں۔چنانچہ حضورسے اصحاب کہف کی تعداد پوچھی گئی نہ بتائی کیونکہ اس کا علم بعدمیں عطاءہوا،حضرت عمرسے سوال ہوا کہفاکھہاورابٌّ(میوہ اور چارہ)میں کیا فرق ہے ؟ فرمایا مجھے خبر نہیں،حضرت امام مالک نے چھتیس مسائل میں فرمایا کہ میں نہیں جانتا،حضرت امام ابوحنیفہ سے پوچھا گیا کہ دھرکیا چیز ہے فرمایا مجھے خبرنہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 272