Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 225

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ أَوْ يصرف بِهِ وُجُوه النَّاس إِلَيْهِ أَدخل الله النَّار» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

وعن كعب بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من طلب العلم ليجاري به العلماء أو ليماري به السفهاء أو يصرف به وجوه الناس إليه أدخل الله النار» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اس لیئے علم طلب کرے تاکہ علماء کا مقابلہ کرے یا جہلاء سے جھگڑے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرے تو اسےاللہآگ میں داخل کرے گا۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں،خزرجی ہیں،عقبہ ثانیہ کی بیعت میں شریک تھے،اسلام کے نامورشعراء میں سے ہیں،آپ غزوۂ تبوک میں رہ گئے تھے اس پر آپ کابائیکاٹ کیا گیا،پھر کچھ عرصہ بعدآپ کی اور آپ کے دو ساتھیوں ہلال ابن امیّہ اورمرارہ ابن ربیعہ کی توبہ قبول ہوئی۔رب فرماتا ہے:"وَّعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیۡنَ خُلِّفُوۡا"آپ آخر میں نابینا ہوگئے تھے،۷۷ سال عمر ہوئی، ۵۰ھمیں وفات پائی۔
۲
؎یعنی جو دینی علم دین کے لئے نہ سیکھے بلکہ عزت یا مال حاصل کرنے یا دین میں فساد پھیلانے کے لئے سیکھے تو اول درجہ کا جہنمی ہے۔ اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو قرآن کا ترجمہ دیکھ کر اور چار حدیثیں پڑھ کر آئمہ مجتہدین اور علماء دین کے منہ آنے کی کوشش کرتے ہیں،اللہتعالٰی نیت خیرعطا فرمائے۔خیال رہے کہ علماء کا مناظرہ اور ہے مقابلہ کچھ اور،مناظرہ میں تحقیق حق مقصود ہوتی ہے،مقابلہ میں اپنی بڑائی کا اظہار،بوقت ضرورت مناظرہ اچھا ہے مقابلہ برا،یہاں مقابلہ کی برائی مذکور ہے۔مناظرے آئمہ مجہتدین بلکہ صحابہ کرام میں بھی ہوئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 225