Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 270

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: "الْعِلْمُ عِلْمَانِ: فَعِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَاكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ، وَعِلْمٌ عَلَى اللِّسَانِ فَذَاك حُجَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ابْنِ آدَمَ". رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

وعن الحسن قال: "العلم علمان: فعلم في القلب فذاك العلم النافع، وعلم على اللسان فذاك حجة الله عز وجل على ابن آدم". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حسن سے فرماتےہیں علم دو طرح کے ہیں ایک علم دل میں یہ علم فائدہ مند ہے ۱؎دوسرا علم صرف زبان پر یہ انسان پراللہکی حجت ہے۲؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی علم دین کی دو نوعیتیں ہیں:ایک وہ جس کا نورعالم کے دل میں اترجائے جس سے قلب روشن اور قالب مطیع ہو جائے یہ علم عالم کو نفع دے گا اور دوسروں کوبھی،ایسے عالم کا وعظ بلکہ اس کی صحبت اکسیر ہے۔اس کی علامت یہ ہے کہ عالم کے دل میں خوف خدا اور محبت جناب مصطفے،آنکھوں میں تری،زبان پراللہکا ذکر رہتے ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ علم بغیر تصوف فسق ہے اورتصوف بغیرعلم بے دینی۔
۲
؎یعنی جب عالم صرف باتیں تو اچھی کرے مگر اس کا اپنا دل نور سے اور بدن اثرعلم سے خالی ہو یہ علم قیامت میں عالم کے الزام کھا جانے کا ذریعہ ہوگا کہ رب فرمائے گا تو سب کچھ جانتاتھا پھرگمراہ اور بدعمل کیوں بنا؟ صوفیاءفرماتے ہیں کہ جس علم میں تصوف کی چاشنی نہ ہو وہ علم لسانی وارثت شیطانی ہے۔آدم علیہ السلام کا علم قلبی تھا شیطان کا لسانی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 270