- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- علم کی کتاب
- حدیث نمبر 204
باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 204
علم کی کتاب - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 198
- 199
- 200
- 201
- 202
- 203
- 204
- 205
- 206
- 207
- 208
- 209
- 210
- 211
- 212
- 213
- 214
- 215
- 216
- 217
- 218
- 219
- 220
- 221
- 222
- 223
- 224
- 225
- 226
- 227
- 228
- 229
- 230
- 231
- 232
- 233
- 234
- 235
- 236
- 237
- 238
- 239
- 240
- 241
- 242
- 243
- 244
- 245
- 246
- 247
- 248
- 249
- 250
- 251
- 252
- 253
- 254
- 255
- 256
- 257
- 258
- 259
- 260
- 261
- 262
- 263
- 264
- 265
- 266
- 267
- 268
- 269
- 270
- 271
- 272
- 273
- 274
- 275
- 276
- 277
- 278
- 279
- 280
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللّٰهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِن كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللّٰهُ عَلَيهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَاللّٰهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيْهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيْهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللّٰهُ لَهٗ بِهٖ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ يَتْلُوْنَ كِتَابَ اللهِ وَيَتَدَارَسُوْنَهٗ بَيْنَهُمْ إِلَّا نزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِيْنَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللّٰهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّأَ بِهٖ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهٖ نَسَبُهٗ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة، ومن يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والآخرة، ومن ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة، والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه، ومن سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له به طريقا إلى الجنة، وما اجتمع قوم في بيت من بيوت الله يتلون كتاب الله ويتدارسونه بينهم إلا نزلت عليهم السكينة، وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملائكة وذكرهم الله فيمن عنده ومن بطأ به عمله لم يسرع به نسبه» . رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے جوکسی مسلمان کو دنیاوی تکلیف سے رہائی دے تواللہاس سے روزقیامت کی مصیبت دورکرے گا ۱؎اور جوکسی تنگی والے پر آسانی کرےاللہدین و دنیا میں اس پر آسانی فرمائے گا۲؎اور مسلمانوں کی پردہ پوشی کرےاللہدین و دنیا میں اس کی پردہ پوشی کرے گا ۳؎اللہبندہ کی مدد پر رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد پر رہے۴؎جو تلاش علم میں کوئی راستہ طے کرے تو اس کی برکت سےاللہاس پر جنت کا راستہ آسان کردے گا۵؎اور کوئی قوماللہکے گھروں میں سےکسی گھر میں قرآن پڑھنے اور آپس میں قرآن سیکھنے سکھانے کے لیے نہیں جمع ہوئی ۶؎مگر ان پر دل کا چین اترتا ہے اور انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے گھیر لیتے ہیں ۷؎اوراللہاسے اس جماعت میں یاد کرتا ہے جو اس کے پاس ہے ۸؎جسےعمل پیچھے کردے اسے نسب نہیں بڑھاسکتا۹؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی تم کسی کی فانی مصیبت دفع کرواللہتم سے باقی مصیبت دفع فرمائے گا،تم مؤمن کو فانی دنیوی آرام پہنچاؤاللہتمہیں باقی آخروی آرام دے گا،کیونکہ بدلہ احسان کا احسان ہے۔یہ حدیث بہت جامع ہے کسی مسلمان کے پاؤں سے کانٹا نکالنا بھی ضائع نہیں جاتا،حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف قیامت ہی میں بدلہ ملے گا بلکہ قیامت میں بدلہ ضرور ملے گا اگرچہ کبھی دنیا میں بھی مل جائے۔
۲؎یعنی جو مقروض کو معافی یا مہلت دے،غریب کی غربت دورکرے توان شاء اللّٰهدین و دنیا میں اس کی مشکلیں آسان ہوں گی۔مرقاۃ میں فرمایا کہ اس حکم میں مؤمن کافر سب شامل ہیں۔کافرمصیبت زدہ کی مصیبت دورکرنے پربھی ثواب مل جاتا ہے بلکہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک رنڈی نے پیاسے کتے کو پانی پلا کر جان بچائیاللہنے اسے اسی پر بخش دیا۔
۳؎یا تو اس طرح کہ ننگے کو کپڑے پہنائے یا ایسے کہ اس کے چھپے ہوئے عیب ظاہر نہ کرے بشرطیکہ اس ظاہر نہ کرنے سے دین یا قوم کا نقصان نہ ہو ورنہ ضرور ظاہرکردے،کفار کے جاسوسوں کو پکڑوائے،خفیہ سازشیں کرنے والوں کے رازکو طشت ازبام کرے،ظلمًا قتل کی تدبیرکرنے کی مظلوم کو خبر دے دے،اخلاق اورہیں معاملات اورسیاسیات کچھ اور۔
۴؎یہ الفاظ بہت جامع ہیں جس میں دین ودنیا کی ساری امدادیں شامل ہیں۔امداد بدن سے ہویاعلم یا مال وغیرہ سے۔
۵؎یعنی جو علم دین سیکھنے یا دینی فتویٰ حاصل کرنے کے لیئے عالم کے گھر جائے۔سفرکر کے یا چند قدم تو اس کی برکت سےاللہدنیا میں اس پر جنت کے کام آسان کرے گا،مرتے وقت ایمان نصیب کرے گا،قبرو حشر کے حساب میں کامیابی اور پل صراط پر آسانی عطا فرمائے گا۔جنت کے راستے میں سب چیزیں داخل ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ علم کے لئے سفر کرنا بہت ثواب ہے۔موسیٰ علیہ السلام طلب علم کے لئے خضر علیہ السلام کے پاس سفر کرکے گئے،حضرت جابر ایک حدیث کے لیئے ایک ماہ کا سفر طے کرکے عبداللہابن قیس کے پاس پہنچے۔(مرقاۃ)
۶؎یہاںاللہکے گھر سے مراد مسجدیں،دینی مدرسے اورصوفیاء کی خانقاہیں ہیں،جواللہکے ذکر کے لئے وقف ہیں۔یہود ونصاریٰ کے عبادت خانے اس سے خارج ہیں کہ وہاں تو مسلمان کو بلاضرورت جانا ہی منع ہے۔درس قرآن سے مراد قرآن شریف کی تلاوت۔تجوید احکام سیکھنا ہیں لہذا اس میں صرف،نحو،فقہ حدیث،تفسیر وغیرہ کے درس شامل ہیں۔جیساکہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے،اسی لیئے تلاوت کے بعد درس کا علیحدہ ذکر فرمایا۔
۷؎سکینہاللہکی ایک مخلوق ہے جس کے اترنے سے دلوں کوچین نصیب ہوتا ہے،کبھی ابرکی شکل میں نمودار ہوتی ہے اور دیکھی بھی جاتی ہے،اس کی برکت سے دل سےغیر خدا کا خوف جاتارہتا ہے۔رحمت سے خالص رحمت مراد ہے جو بوقت ذکر ذاکر کو ہرطرف سےگھیرتی ہے۔فرشتوں سے سیّاحین فرشتے مراد ہیں جو ذکر کی مجلسیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں ورنہ اعمال لکھنے والے اورحفاظت کرنے والے فرشتے ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ جہاں مجمع کے ساتھ ذکراللہہورہا ہو وہاں یہ تین رحمتیں اترتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ تنہا ذکر سے جماعت کامل کر ذکر کرنا افضل ہے،جماعت کی نماز کا درجہ زیادہ کہ اگر ایک کی قبول سب کی قبول۔
۸؎یعنی فرشتوں کی جماعت۔اس کی شرح و ہ حدیث ہے کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رب کو اکیلے یاد کرے رب بھی اسے ایسے ہی یاد کرتا ہے،جو جماعت میں یاد کرے رب اسے فرشتوں میں یاد کرتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے:"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"اس رب کی یاد کا اثر یہ پڑتا ہے کہ مخلوق اس بندے کو یاد کرنے لگتی ہے،بزرگوں کے مزارات پر زائرین کا ہجوم وہاں ذکراللہکی دھوم اسی یاد کا نتیجہ ہے۔
۹؎یعنی نسب کی شرافت عمل کی کمی کو پورا نہ کرے گی۔شعر
بندۂ عشق شدی ترک نسب کن جامی
کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست
کیا تمہیں خبر نہیں کہ نوح علیہ السلام کی کشتی میں کتے بلّوں کو جگہ تھی مگر ان کے کافر بیٹے کنعان کے لئے جگہ نہ تھی۔مقصد یہ کہ شریف النسب اعمال سے لاپروا نہ ہوجائیں،یہ منشاء نہیں کہ شرافتِ نسب کوئی چیز ہی نہیں اس کی تحقیق ہمارے رسالہ"اَلْکَلَامُ الْقَبُوْلِ فِیْ طَہَارَتِ نَسَبِ الْرَسُوْلِ"میں دیکھو مؤمن کونسب الرسولضرور فائدہ دے گا۔تمام دنیا کی عورتیں حضرت فاطمہ زہرا کے قدم پاک کو نہیں پہنچ سکتیں،رب نے بنی اسرائیل سے فرمایا:"اَنِّیۡ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ"بنی اسرائیل کے تمام عالم پر افضل ہونے کی یہی وجہ تھی کہ وہ اولاد انبیاءہیں لہذا یہ حدیث کسی آیت کے خلاف نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 204