Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 222

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَنْ يَشْبَعَ الْمُؤْمِنُ مِنْ خَيْرٍ يَسْمَعُهٗ حَتّٰی يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الْجنَّة رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "لن يشبع المؤمن من خير يسمعه حتی يكون منتهاه الجنة رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدر ی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمن خیر کے سننے سے کبھی سیر نہ ہوگا تاآنکہ اس کی انتہا جنت ہوجائے ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی علم دین کی حرص ایمان کی علامت ہے،جتنا ایمان قوی اتنی ہی یہ حرص زیادہ،بڑےبڑےعلماءعلم پر قناعت نہیں کرتے۔ صوفیاء فرماتے ہیں"اُطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَھْدِ اِلَی اللَّحدِ"یعنی گہوارہ سے قبر تک علم سیکھو۔اس حدیث میں علم کے حریص کو جنت کی بشارت ہے۔ان شاء اللّٰهعلم دین کا متلاشی مرتے ہی جنتی ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ کسی کو اپنے خاتمہ کی خبر نہیں سوا عالم دین کے کہ ان کے لیئے حضور نے وعدہ فرمالیا کہاللہجس کی بھلائی چاہتا ہے اسے علم دین دیتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 222