- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- علم کی کتاب
- حدیث نمبر 205
باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 205
علم کی کتاب - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 198
- 199
- 200
- 201
- 202
- 203
- 204
- 205
- 206
- 207
- 208
- 209
- 210
- 211
- 212
- 213
- 214
- 215
- 216
- 217
- 218
- 219
- 220
- 221
- 222
- 223
- 224
- 225
- 226
- 227
- 228
- 229
- 230
- 231
- 232
- 233
- 234
- 235
- 236
- 237
- 238
- 239
- 240
- 241
- 242
- 243
- 244
- 245
- 246
- 247
- 248
- 249
- 250
- 251
- 252
- 253
- 254
- 255
- 256
- 257
- 258
- 259
- 260
- 261
- 262
- 263
- 264
- 265
- 266
- 267
- 268
- 269
- 270
- 271
- 272
- 273
- 274
- 275
- 276
- 277
- 278
- 279
- 280
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ اُسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهٖ فَعَرَّفَهؔٗ نِعَمَهٗ فَعَرَفَہَا فَقَالَ: فمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيْكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لَأَنْ يُقَالَ: جَرِيْءٌ، فَقَدْ قِيْلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهٖ فَسُحِبَ عَلٰى وَجهِهٖ حَتّٰى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهٖ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيْهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهٗ وَقَرَأْتُ فِيْكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ: إِنَّكَ عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ: هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيْلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهٖ فَسُحِبَ عَلٰى وَجْهِهِ حَتّٰى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهٖ، فَأُتِيَ بِهٖ فَعَرَّفَهٗ نِعَمَهٗ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ: هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهٖ فَسُحِبَ بِهٖ عَلٰى وَجْهِهٖ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "إن أول الناس يقضى عليه يوم القيامة رجل استشهد فأتي به فعرفه نعمه فعرفہا فقال: فما عملت فيها؟ قال: قاتلت فيك حتى استشهدت، قال: كذبت ولكنك قاتلت لأن يقال: جريء، فقد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار. ورجل تعلم العلم وعلمه وقرأ القرآن، فأتي به فعرفه نعمه فعرفها، قال: فما عملت فيها؟ قال: تعلمت العلم وعلمته وقرأت فيك القرآن، قال: كذبت ولكنك تعلمت العلم ليقال: إنك عالم، وقرأت القرآن ليقال: هو قارئ، فقد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار. ورجل وسع الله عليه وأعطاه من أصناف المال كله، فأتي به فعرفه نعمه فعرفها، قال: فما عملت فيها؟ قال: ما تركت من سبيل تحب أن ينفق فيها إلا أنفقت فيها لك، قال: كذبت ولكنك فعلت ليقال: هو جواد، فقد قيل، ثم أمر به فسحب به على وجهه ثم ألقي في النار". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پہلے جس کا فیصلہ قیامت میں ہوگا وہ شہیدہے ۱∞؎اسے لایا جائے گاتب رب اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کرائے گا فرمائے گا کہ اس شکریہ میں کیاعمل کیا ۲؎عرض کرے گا تیری راہ میں جہاد کیا تاآنکہ شہید ہوگیا فرمائے گا تو جھوٹا ہے تو نے تو اس لیے لڑائی کی تھی کہ تجھے بہادر کہا جاوے وہ کہہ لیا گیا۳؎پھرحکم ہوگا تو اسے منہ کہ بل کھینچاجائے گا یہاں تک کہ آگ میں پھینک دیا جائے گا ۴؎اور وہ جس نے علم سیکھا سکھایا اور قرآن پڑھا اسے لایا جائے گا اپنی نعمتوں کا اقرارکرایا جائے گا وہ اقرار کرلے گا فرمائے گا تو نے شکریہ میں عمل کیا کیا عرض کرے گا علم سیکھا سکھایا تیری راہ میں قرآن پڑھا فرمائے گا تو جھوٹا ہے تو نے اس لیے علم سیکھا کہ تجھے عالم کہا جاوے ۵؎اس لیے قرآن پڑھا تھا کہ قاری کہا جاوے وہ کہہ لیا گیا پھر حکم ہوگا اوندھے منہ کھینچا جاوے گا حتی کہ آگ میں پھینک دیا جاوے گا ۶؎اور وہ مرد جسےاللہنے وسعت دی اور ہر طرح کا مال بخشا اسے لایا جائے گا نعمتوں کا اقرارکرائے گا یہ کر لے گا فرمائے گا تو نے شکریہ میں کیا عرض کرے گا میں نے کوئی ایسا راہ نہ چھوڑا جہاں خرچ کرنا تجھے پیارا ہو مگر وہاں تیرے لیے خرچ کیا فرمائے گا تو جھوٹاہے تونے یہ سخاوت اس لیے کی تھی کہ تجھے سخی کہا جاوے وہ کہہ لیا گیا پھرحکم ہوگا تو اسے اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا پھر آگ میں جھونک دیا جائے گا ۷؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یہ اوّلیت اضافی ہے نہ کہ حقیقی یعنی ریاکاروں میں سے پہلے ریا کار شہید کا فیصلہ ہوگا۔لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ پہلے حساب نماز کا ہوگا یا پہلے ظلمًا قتل کا حساب ہوگا۔عبادات میں نماز کا،معاملات میں قتل کا،ریا میں ایسےشہید کا فیصلہ پہلے ہے۔شہیدسے وہ مرادہے جواللہکی راہ میں مارا گیا۔
۲؎یعنی میں نے تجھے اندرونی بیرونی کروڑوں نعمتیں دیں تونے کون سی نیکی کی۔معلوم ہوا کہ نیکیاں رب کے انعام کا شکریہ بھی ہیں۔
۳؎یعنی تیرے جہاد اور شہادت کا عوض یہ ہوگیا کہ لوگوں نے تیری واہ واہ کردی کیونکہ تو نے اسی نیت سے جہاد کیا تھا نہ کہ خدمت اسلام کیلئے۔معلوم ہوا کہ اگر غازی میں اخلاص ہوتو لوگوں کی واہ واہ سے ثواب کم نہیں ہوگا۔یہ تو رب کی طرف سے دنیوی انعام ہے۔صحابہ کرام اور خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں جہاں میں واہ واہ ہورہی ہے۔خیال رہے کہ فقط غنیمت یا ملک حاصل کرنے کیلئے جہاد کرنے کا انجام بھی یہی ہے۔جہاد صرفاللہرسول کی رضا کے لئے چاہئے۔
۴؎یعنی نہایت ذلت کے ساتھ،مرے ہوئے کتے کی طرح ٹانگ سے گھسیٹ کر کنارۂ جہنم سے نیچے پھینکا جائے گا۔جہنم کی گہرائی آسمان و زمین کے فاصلہ سےکروڑوں گناہ زیادہ ہےاللہکی پناہ۔
۵؎تیری یہ ساری محنت خدمت دین کے لئے نہ تھی بلکہ علم کے ذریعہ عزت اور مال کمانے کی تھی وہ تجھے حاصل ہوگئے،ہم سے کیا چاہتا ہے،اسی حدیث کو دیکھتے ہوئے،بعض علماءنے اپنی کتابوں میں اپنا نام بھی نہ لکھا اورجنہوں نے لکھا ہے وہ ناموری کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کی دعا حاصل کرنے کے لئے۔
۶؎معلوم ہوا کہ جیسے اخلاص والی نیکی جنت ملنے کا ذریعہ ہے ایسے ہی ریا والی نیکی جہنم اور ذلت حاصل ہونے کا سبب۔
۷؎اس جگہ چار مسئلے یاد رکھنے چاہئیں:ایک یہ کہ یہاں ریاکارشہید،عالم اور سخی ہی کا ذکر ہوا اس لیئے کہ انہوں نے بہترین عمل کیئے تھے جب یہ عمل ریا سے برباد ہوگئے تو دیگر اعمال کا کیا پوچھنا،ریا کے حج و زکوۃ اور نماز کا بھی یہی حال ہے۔دوسرے یہ کہ بعض ریا کار وہ ہیں جو ریا ہی کے لئے نیکیاں کرتے ہیں اگر ان کی تعریف نہ ہو تو نیکی کرتے ہی نہیں،بعض وہ ہیں کہ ریا کے لئے اچھی طرح عمل کریں تنہائی میں معمولی،بعض وہ ہیں جو خلوت و جلوت میں عمل یکساں کریں مگر نام نمود سے خوش ہوں،یہاں پہلی قسم کا ریا کار مراد ہے، دوسری دوقسم کے ریا کار اصل نیکی کا ثواب پائیں گے مگر ناقص۔تیسرے یہ کہ اس حدیث میں قانون اور رب کے عدل کا ذکر ہے فضل دوسری چیزہے،رب فرماتا ہے:"فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ"لہذا یہ حدیث معافی کی آیات و احادیث کے خلاف نہیں۔شعر:
عدل کرے تو تھر تھر کانپیں اونچی شانوں والے فضل کرے تو بخشے جانویں مجھ جیسے منہ کالے چوتھے یہ کہ مؤمن کی یہ ساری سزائیں تنہائی میں ہوں گی،علانیہ نہیں،اللہاسے ذلت اور رسوائی سے بچائے گا،ذلت و رسوائی صرف کافروں کے لیئے ہوگی جیساکہ آیت قرآنیہ سے ثابت ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ریا کے خوف سے عمل نہ چھوڑ دےعمل کیے جائے کبھی اخلاص بھی نصیب ہو ہی جائے گا۔مکھیوں کے ڈر سے کھانا نہ چھوڑدو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 205