Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 256

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ خَيْرٌ من إحْيَائِهَا. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعن ابن عباس قال: تدارس العلم ساعة من الليل خير من إحيائها. رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رات میں ایک گھڑی علم کا درس تمام رات بیداری سے افضل ہے ۱؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ایسے ہی دن میں کچھ دیرعلم کا مشغلہ تمام دن کی عبادت سے افضل ہے۔عبادت سے نفلی عبادات مراد ہیں یہ مطلب نہیں کہ فرائض چھوڑ کر علم سیکھے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ عالم دین کی نیند بھی عبادت ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ تلاوت قرآن سے فقہ سیکھنا افضل۔ان دونوں کا ماخذ یہ حدیث ہے اس کی وجہ ہم بارہا بیان کرچکے عالم تھوڑی عبادت پر جاہل کی بڑی عبادت سے زیادہ ثواب حاصل کرلیتاہے۔
لطیفہ:ایک بزرگ پٹنہ سے حج بیت
اللہکے لیئے پاپیادہ ہرپانچ قدم پر دونفل پڑھتے چلے،دس سال میں گجرات پہنچے ان کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اگر آپ ہوائی جہاز سے ایک رات میں مکہ معظمہ پہنچ جاتے اور اتنے نوافل وہاں پڑھتے تو ہر رکعت پر ایک لاکھ کا ثواب پاتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 256