Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 202

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :"لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٍ آتَاهُ اللّٰهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلٰی هَلَكَتِهٖ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٍ آتَاهُ اللّٰهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يقْضِي بهَا وَيُعَلِّمُهَا) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"لا حسد إلا في اثنتين رجل آتاه الله مالا فسلطه علی هلكته في الحق ورجل آتاه الله الحكمة فهو يقضي بها ويعلمها) (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے دو کے سوا کسی میں رشک جائز نہیں ۱؎ایک شخص جسےاللہمال دے تو اسے اچھی جگہ خرچ پر لگادے دوسرا وہ شخص جسےاللہعلم دے تو وہ اس سے فیصلے کرے اور لوگوں کو سکھائے ۲؎( مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کسی نعمت والے پرجلنا اور اس کی نعمت کا زوال،اپنے لیئے حصول چاہنا حسد ہے،جوبہت بڑاعیب ہے جس سے شیطان مارا گیا مگر دوسروں کی سی نعمت اپنے لیئے بھی چاہنا غبطہ(رشک)ہےحسد مطلقًا حرام ہے،غبطہ دو جگہ جائز ہے یہاں حسدبمعنی غبطہ ہے۔
۲
؎یعنی مالدارسخی جسے خدا اچھے کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق دے ایسے ہی بافیض عالم دین جس کے علم سے لوگ فائدہ اٹھائیں قابل رشک ہے۔سبحان اللّٰه !بعض علماء کے علم اوربعض سخیوں کے مال سے لوگ تاقیامت فائدہ اٹھاتے ہیں۔اللہتعالٰی فقیر کی اس کتاب سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے۔(آمین)خیال رہے کہ نیکی کی تمنا کرنے والاان شاء اللّٰه تعالٰیقیامت میں نیکوں کے ساتھ ہی ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 202