Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 258

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا حَدُّ الْعِلْمِ الَّذِي إِذَا بَلَغَهُ الرَّجُلُ كَانَ فَقِيهًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ حَفِظَ عَلَى أُمَّتِي أَرْبَعِينَ حَدِيثًا فِي أَمْرِ دِينَهَا بَعَثَهُ اللَّهُ فَقِيهًا، وَكُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَة شَافِعًا وَشَهِيدًا".

وعن أبي الدرداء قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما حد العلم الذي إذا بلغه الرجل كان فقيها؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "من حفظ على أمتي أربعين حديثا في أمر دينها بعثه الله فقيها، وكنت له يوم القيامة شافعا وشهيدا".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابودرداءسے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اس علم کی حد کیا ہے جہاں انسان پہنچے تو عالم ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو میری امت پر چالیس احکام دین کی حدیثیں حفظ کرے اسے اللہ فقیہ اٹھائے گا اور قیامت کے دن میں اس کا شفیع وگواہ ہوں گا ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کے بہت پہلو ہیں:چالیس حدیثیں یادکرکے مسلمان کو سنانا،چھاپ کر ان میں تقسیم کرنا،ترجمہ یا شرح کرکے لوگوں کوسمجھانا،راویوں سے سن کر کتابی شکل میں جمع کرنا،سب ہی اس میں داخل ہیں۔یعنی جو کسی طرح دینی مسائل کی چالیس حدیثیں میری امت تک پہنچادے تو قیامت میں اس کا حشر علمائے دین کے زمرے میں ہوگا اور میں اس کی خصوصی شفاعت اور اس کے ایمان اور تقوٰی کی خصوصی گواہی دوں گا ورنہ عمومی شفاعت اور گواہی تو ہرمسلمان کو نصیب ہوگی۔اسی حدیث کی بنا پر قریبًا تمام محدثین نے جہاں حدیثوں کے دفتر لکھے وہاں علیحدہ چہل حدیث جسے"اربعینیہ"کہتے ہیں جمع کیں۔امام نووی اور شیخ عبدالحق دہلوی کی اربعینیات مشہور ہیں۔فقیر نے بھی اپنی کتاب "سلطنت مصطفی"میں چالیس حدیثیں جمع کی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 258