Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 239

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ: آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن عبد الله ابن عمرو قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "العلم ثلاثة: آية محكمة، أو سنة قائمة، أو فريضة عادلة، وما كان سوى ذلك فهو فضل". رواه أبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم تین ہیں ظاہر آیتیں ثابت و مضبوط سنت ان کے برابر فریضہ ۱؎جوان کے سواء ہیں وہ زیادتی ہے۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی علم دین ان چیزوں کا جاننا ہے احکام کی غیرمنسوخ آیتیں مع تفصیل اور صحیح غیر منسوخ حدیثیں اجماع امت اور قیاس جو کتاب و سنت کی طرح واجب العمل ہیں۔خیال رہے کہ یہاں فریضہ سے مراد علم فرائض(میراث)نہیں کہ وہ کتاب و سنت میں آگیا بلکہ علم فقہ ہی مراد ہے۔عادلہ بمعنی عدیل و مثل۔(مرقاۃ واشعہ)
۲
؎یعنی ان تین کے علاوہ باقی علوم علم دین نہیں بلکہ زائد یا فضول ہیں۔خیال رہے کہ صرف و نحو وغیرہ قرآن و حدیث سمجھنے کے لئے ہیں اور اصول فقہ و اصول حدیث وغیرہ ان علوم کے خدام جو ان کو اپنا مقصود بنالے بڑا بے وقوف ہے۔شعر؎علم دین فقہ است تفسیر و حدیث ہر کہ جوید غیر ازیں باشدخبیث

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 239