Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 234

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ". وَفِي رِوَايَةٍ: "مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَليَتَبَوَّأ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "من قال في القرآن برأيه فليتبوأ مقعده من النار". وفي رواية: "من قال في القرآن بغير علم فليتبوأ مقعده من النار" رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ جو قرآن میں بغیر علم کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قرآن کی تفسیر بالرّائے کرنے والاجہنمی ہے۔خیال رہے کہ قرآن کی بعض چیزیں نقل پر موقوف ہیں،جیسے شان نزول،ناسخ منسوخ،تجوید کے قواعد انہیں رائے سے بیان کرنا حرام ہے،وہی یہاں مراد ہے۔اور بعض چیزیں شرعی عقل سے بھی معلوم ہوسکتی ہیں،جیسے آیات کے علمی نکات،اچھی اور صحیح تاویلیں،پیدا ہونے والے اعتراضات کے جوابات وغیرہ ان میں نقل لازم نہیں۔غرضکہ قرآن کی تفسیر بالرائے حرام ہے اور تاویل بالرائے علمائے دین کے لیئے باعث ثواب،یا اس کی تحقیق ہمارے کتاب"جاء الحق"اور مرقاۃ میں اسی مقام پر دیکھو،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الْقُرْاٰنَ"۔معلوم ہوا کہ قرآن میں تدبروتفکر کا حکم ہے۔
۲
؎اس میں اشارۃً فرمایا کہ علماءکو قرآنی تاویلات کی اجازت ہے جہلا کو یہ بھی حرام۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو فقط ترجمۂ قرآن سے غلط مسئلے مستنبط کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔حدیث و قرآن کے فقط ترجمے بغیر فقہ کی روشنی کے عوام کے لئے زہرقاتل ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 234