Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 212

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ كَثِيرِ ابْنِ قَيْسٍ قَالَ: كنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ! إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا جِئْتُ لِحَاجَةٍ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللّٰهُ بِهٖ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ يَسْتَغْفِرُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمَوَات وَمَنْ فِي الأَرْضِ، وَالْحِيْتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ، وَإنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِكَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرثَةُ الأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهٗ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ" رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو داوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، وَسَمَّاهُ التِّرْمِذِيُّ قَيْسَ بْنَ كَثِيرٍ.

عن كثير ابن قيس قال: كنت جالسا مع أبي الدرداء في مسجد دمشق فجاءه رجل فقال: يا أبا الدرداء! إني جئتك من مدينة الرسول صلى الله عليه وسلم لحديث بلغني أنك تحدثه عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم ، ما جئت لحاجة، قال: فإني سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم يقول "من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا من طرق الجنة، وإن الملائكة لتضع أجنحتها رضا لطالب العلم، وإن العالم يستغفر له من في السموات ومن في الأرض، والحيتان في جوف الماء، وإن فضل العالم على العابدكفضل القمر ليلة البدر على سائر الكواكب، وإن العلماء ورثة الأنبياء، وإن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما، وإنما ورثوا العلم، فمن أخذه أخذ بحظ وافر" رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي، وسماه الترمذي قيس بن كثير.

حدیث ترجمہ

روایت ہے کثیر ابن قیس سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو درداء کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا ۱∞؎آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور بولا کہ اے ابودردا ءمیں رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ سے آپ کے پاس صرف ایک حدیث کے لیئے آیا ہوں مجھے خبر لگی ہے کہ آپ حضور سے وہ روایت فرماتے ہیں ۲؎اس کے سواءاور کسی کام کے لیئے نہ آیا ۳؎آپ نے فرمایا کہ میں نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو تلاش علم کرتے ہوئے کوئی راہ طے کرے تواللہاسے بہشت کے راہوں سے کوئی راہ چلائے گا۴؎اور بے شک فرشتے طالب علم کی رضا کے لیئے پر بچھاتے ہیں ۵؎یقینًا عالم کے لیئے آسمانوں اور زمین کی چیزیں اور پانی میں مچھلیاں دعائے مغفرت کرتی ہیں ۶؎اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں شب میں چاند کی فضیلت سارے تاروں پر ۷؎اور علماء نبیوں کے وارث ہیں ۸؎پیغمبروں نے کسی کو دینارو درہم کا وارث نہ بنایا انہوں نے صرف علم کا وارث بنایا تو جس نے علم اختیار کیا اس نے پورا حصہ لیا ۹؎اسے احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ترمذی نے ان کا نام قیس ابن کثیر بتایا۔

شرح حدیث

۱∞؎دمشق شام کا دارالخلافہ ہے۔کثیر ابن قیس تابعی ہیں،حضرت ابوالدرداء کے صحبت یافتہ ہیں۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ اس طالب علم نے متن حدیث سن لیا تھا اس شوق میں یہاں آئے کہ صحابی کے منہ سے سنوں تاکہ برکت اور زیادتی یقین حاصل ہو۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے متن حدیث نہیں سنا تھا اجمالًا پتہ لگا تھا کہ حضرت ابوالدرداء فلاں بارے میں حدیث بیان فرماتے ہیں۔چونکہ مدینہ کے معنی مطلقًا شہر کے ہیں اس لیئے مدینۃ الرسول فرمایا،یعنی میں مدینہ منورہ سے آیا ہوں۔ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ طلب علم کے لیئے سفر بزرگوں کی بلکہ نبیوں کی سنت ہے۔موسیٰ علیہ السلام طلب علم کے لئے بہت دراز سفر کرکے خضر علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے. دوسرے یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فقطالرسولکہہ سکتے ہیں، جب کہ علامت سے معلوم ہوا کہ یہاں حضور مراد ہیں رب تعالٰی فرماتا ہے:"یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ"اور فرماتا ہے:"مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ" اسے ناجائز کہنا بے دلیل ہے۔
۳
؎یعنی سوا حدیث سننے کے اورکسی دینی دنیوی غرض کے لئے سفر نہیں کیا۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ سوائے تین مسجدوں کے اور کسی طرف سفر جائز نہیں،حالانکہ خود نوکری تجارت وغیرہ کے لئے سفرکرتے رہتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی ملاقات،زیارت قبور وغیرہ کے لئے سفرجائز ہے۔جیسا کہ شامی وغیرہ میں ہے اوران شاء اللّٰه"باب المساجد"میں ممانعت سفرکی حدیث کے ماتحت بھی پوری تحقیقات کردی جائے گی،نیز اس کے لئے ہماری کتابجاء الحقکا مطالعہ کرو۔
۴
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ وہ حدیث نہیں ہے جس کے سننے کے لیئے وہ صاحب حاضر ہوئے تھے بلکہ ان کی ہمت افزائی اور انکے سفر کی قبولیت کی بشارت کے لئے یہ حدیث سنائی۔مطلب یہ ہے کہ جو مسئلہ پوچھنے،علم پڑھنے،حدیث سننے وغیرہ کے لئے سفر کرکے یا بغیر سفر تھوڑا راستہ طے کرکے جائے تو اسے دنیا میں نیک اعمال کی توفیق ملے گی جو جنت ملنے کا سبب ہیں یا آخرت میں پل صراط پرگزر آسان ہوگی اور جنت میں سہولت سے پہنچے گا۔امام شافعی فرماتے ہیں:کہ علم دین کی طلب نفلی نماز سے افضل ہے کہ یہ فرض ہے وہ نفل۔(مرقاۃ)۵؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں حقیقی معنی ہی مراد ہیں کہ جب طالب علم علم میں مشغول ہوتا ہے تو اس کا کلام سننے کے لیئے ملائکہ نیچے اتر آتے ہیں اور گفتگو سنتے ہیں جیسا تلاوت قرآن کے موقعہ پر یا قیامت میں طالب علم کے قدموں کے نیچے فرشتے اپنے پر بچھائیں گے یا مطلب یہ ہے کہ طالب علم کے لیئے ملائکہ نیا زمندی کا اظہار کرتے ہیں اور اس کی مشقتوں کو آسان کرتے ہیں۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاخْفِضْ لَہُمَاجَنَاحَ الذُّلِّ"اس جگہ مرقاۃ نے اس کے متعلق عجیب و اقعات بیان فرمائے ہیں۔
۶
؎یعنی علمائے دین کے لیئے چاند،سورج،تارے اور آسمانی فرشتے ایسے ہی زمین کے ذرے،سبزیوں کے پتے اور بعض جن و انس اور تمام دریائی جانور مچھلیاں وغیرہ دعائے مغفرت کرتے ہیں،کیونکہ علمائے دین کی وجہ سے دین باقی ہے اور دین کے بقا سے عالَم قائم ہے،علماء کی ہی برکتوں سےبارشیں ہوتی ہیں اورمخلوق کو رزق ملتا ہے،حدیث شریف میں ہے"بِہِمْ یُمْطَرُوْنَ وَبِہِمْ یُرْزَقُوْنَ"۔علماء کے اٹھنے سے اسلام اٹھ جائے گا اور قیامت برپا ہوجائے گی،علماء دنیا کا تعویذ ہیں۔(مرقاۃ واشعۃ)خیال رہے کہ علماءمیں علمائے شریعت بھی داخل ہیں اور علمائے طریقت بھی بلکہ کوئی شخص علم کے بغیر ولیاللہنہیں بنتا،اللہجاہلوں کو ولی نہیں بناتا،فرماتا ہے:"اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰهَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا"۔(ازمرقاۃ)۷؎عالِم سے مراد وہ عالِم ہے جوصرف ضروری اعمال پر قناعت کرے اوربجائے نوافل کے علمی خدمات انجام دے۔عابدسے وہ شخص مراد ہے جو صرف اپنےضروری مسائل سے واقف ہو اوراپنے اوقات نوافل میں گزارے۔بے دین اور فاسق عالم اور نرا جاہل عابد اس گفتگو سے خارج ہے۔خیال رهے کہ چاند آفتاب سے نور لے کر رات میں سارے عالم کو جگمگادیتا ہے،ایسے ہی عالم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض لےکر دینی روشنی پھیلا دیتے ہیں۔تارے خودنور ہیں مگر چاندنور بخشنے والا۔عابد اپنے لیئے اور عالِم عالَم کے لیئے کوشش کرتے ہیں،عابد اپنی کمبلی بچاتا ہے،عالم طوفان سے لوگوں کا جہاز نکال لے جاتا ہے۔لازم سے متعدی افضل۔
۸
؎سبحان اللّٰه !جب مورث اتنے اعلٰی تو وارث کیسے شان دارہوں گے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ علمائے مجتہدین رسولوں کے وارث ہیں اور علمائے غیرمجتہدین نبیوں کے،لفظ علماءو انبیاءان دونوں کو شامل ہے۔خیال رہے کہ علمائے اسلام حضور کے وارث اور چونکہ حضور تمام نبیوں کی صفات کے جامع ہیں لہذا علماء سارے انبیاء کے وارث ہوئے۔
۹
؎خیال رہے کہ بعض انبیاءتارك الدنیاتھےجنہوں نے کچھ جمع نہ کیاجیسے حضرت یحیی وعیسیٰ علیہما السلام اور بعض نے بہت مال رکھا۔جیسے حضرت سلیمان وداؤدعلیہماالسلام لیکن کسی نبی کی مالی میراث نہ بٹی،ان کا چھوڑا ہوا مال دین کے لیئے وقف ہوتا ہے اور تاقیامت علماءان کے وارث،اسی لیئے علماءکو وارثین انبیاء کہا جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 212