Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 271

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبيِ هُرَيرَةَ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وِعَاءَيْنِ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ فِيكُمْ،وَأَمَّا الآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ، يَعْنِي مَجْرَى الطَّعَامِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: حفظت من رسول الله -صلى الله عليه وسلم - وعاءين، فأما أحدهما فبثثته فيكم،وأما الآخر فلو بثثته قطع هذا البلعوم، يعني مجرى الطعام. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم سے علم کے دو برتن محفوظ کیے ایک تو تم میں پھیلا دیا اور دوسرا اگر اسے پھیلاؤں تو یہ کاٹ ڈالا جائے یعنی گلا ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مجھے حضور سے دوقسم کے علم ملے،ایک علمِ شریعت جو میں نے تمہیں بتادیا دوسرا علم اسرار و طریقت و حقیقت کہ اگر وہ ظاہرکروں تو عوام نہ سمجھیں اور مجھے بے دین سمجھ کرقتل کردیں،یا ایک علم احکام دوسرے علم اخبار،جس میں ظالم حاکموں اور بے دین سرداروں کے نام موجود ہیں اگر میں بتاؤں تو ان کی ذریت مجھے ہلاک کردے۔حضرت ابوہریرہ کبھی کنایۃً اشارۃً کچھ کہہ دیتے تھے۔چنانچہ دعامانگاکرتےتھے کہ خدایامجھے ۶۰ھکے فتنوں اور لونڈوں کی حکومت سے پناہ دے۔چنانچہ ۶۰ھمیں امیرمعاویہ کی وفات ہوئی یزیدپلیدتخت نشین ہوا۔اس دعا میں ان دو واقعات کی طرف اشارہ تھا،آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور امیرمعاویہ رضیاللہعنہ کی وفات سے ایک سال قبل انتقال فرمایا۔اس حدیث سے چند مسئلےمعلوم ہوئے: ایک یہ کہ شرعی مسئلے بے دھڑک بیان کیئے جائیں مگرتصوف کے اسرار نااہل کو نہ بتائے جائیں۔دوسرے یہ کہ غیرضروری چیزیں جن کے اظہار سے فتنہ پھیلتا ہو ہرگز ظاہر نہ کی جائیں۔تیسرے یہ کہاللہتعالٰی نے اپنے حبیب کو علوم غیبیہ عطا فرمائے،حضور کے ذریعہ صحابہ کرام کوبھی،جب حضرت ابوہریرہ کے علم کا یہ حال ہے تو حضرات خلفائے راشدین کے علوم تو ہماری سمجھ سے بالا ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 271