Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 203

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أو عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهٖ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْا لَهٗ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة إلا من صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعوا له" رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کے عمل بھی ختم ہوجاتے ہیں ۱؎سواءتین اعمال کے ایک دائمی خیرات یا وہ علم جس سے نفع پہنچتا رہے یا وہ نیک بچہ جو اس کے لیئے دعا خیر کرتا رہے ۲∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎انسان سے مراد مسلمان ہےعمل سے مراد نیکیوں کا ثواب،جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض مقبول قبر میں نماز وقرآن پڑھتے ہیں جیساکہ احادیث میں ہےکیونکہ ان اعمال پر ثواب نہیں اسی لئے ہی مردے زندوں سے ثواب بخشنے کی تمنا کرتے ہیں جیساکہ روایات میں ہے کیونکہ ثواب زندگی کے اعمال پر ہے۔
۲
؎یہ تین چیزیں جن کا ثواب مرنے کے بعد خواہ مخواہ پہنچتا رہتا ہےکوئی ایصال ثواب کرے یا نہ کرے۔صدقہ جاریہ سے مراد اوقاف ہیں جیسے مسجدیں،مدرسے،وقف کیے ہوئے باغ جن سے لوگ نفع اٹھاتے رہتے ہیں،ایسے ہی علم سے مراد دینی تصانیف،نیک شاگرد جن سے دینی فیضان پہنچتے رہیں۔نیک اولاد سے مراد عالم عامل بیٹا۔مرقاۃ نے فرمایا کہیَدْعُوْاکی قید ترغیبی ہےیعنی بیٹے کو چاہیئے کہ باپ کو دعائے خیر میں یاد کھے حتی کہ نماز میں ماں باپ کو دعائیں پہلے دے بعد میں سلام پھیرے ورنہ اگر نیک بیٹا دعا بھی نہ کرے ماں باپ کو ثواب ملتا رہے گا۔خیال رہے کہ یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے قیامت تک ثواب ملتاہے یا فرمایا گیا کہ نمازی کو ہمیشہ ثواب ملتا رہتا ہے کیونکہ وہ سب چیزیں صدقہ جاریہ ہیں یا نافع علم میں داخل ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 203