- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- علم کی کتاب
- حدیث نمبر 210
باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 210
علم کی کتاب - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 198
- 199
- 200
- 201
- 202
- 203
- 204
- 205
- 206
- 207
- 208
- 209
- 210
- 211
- 212
- 213
- 214
- 215
- 216
- 217
- 218
- 219
- 220
- 221
- 222
- 223
- 224
- 225
- 226
- 227
- 228
- 229
- 230
- 231
- 232
- 233
- 234
- 235
- 236
- 237
- 238
- 239
- 240
- 241
- 242
- 243
- 244
- 245
- 246
- 247
- 248
- 249
- 250
- 251
- 252
- 253
- 254
- 255
- 256
- 257
- 258
- 259
- 260
- 261
- 262
- 263
- 264
- 265
- 266
- 267
- 268
- 269
- 270
- 271
- 272
- 273
- 274
- 275
- 276
- 277
- 278
- 279
- 280
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: كُنَّا فِي صَدْرِ النَّهَارِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَهٗ قَوْمٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِيْ النِّمَارِأَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوْفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى،ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ إِلٰی آخَرِ الآيَةِ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا وَالآيَةُ الَّتِي فِي الْحَشْرِ اتَّقُوْا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ، تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهٖ، مِنْ دِرْهَمِهٖ، مِنْ ثَوْبِهٖ، مِنْ صَاعِ بُرِّهٖ، مِنْ صَاعِ تَمْرِهٖ، حَتّٰى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ یَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجِزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتّٰى رَأَيْتُ كَوْمَينِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ،حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ،فَقَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَن سَنَّ فِي الإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهٖ مِنْ غَيرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمَلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهٖ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن جرير قال: كنا في صدر النهار عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم ، فجاءه قوم عراة مجتابي النمارأو العباء متقلدي السيوف عامتهم من مضر بل كلهم من مضر، فتمعر وجه رسول الله -صلى الله عليه وسلم - لما رأى بهم من الفاقة، فدخل ثم خرج، فأمر بلالا فأذن وأقام فصلى،ثم خطب فقال: ياأيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة إلی آخر الآية إن الله كان عليكم رقيبا والآية التي في الحشر اتقوا الله ولتنظر نفس ما قدمت لغد ، تصدق رجل من ديناره، من درهمه، من ثوبه، من صاع بره، من صاع تمره، حتى قال: ولو بشق تمرة، قال: فجاء رجل من الأنصار بصرة كادت كفه یعجز عنها بل قد عجزت، ثم تتابع الناس حتى رأيت كومين من طعام وثياب،حتى رأيت وجه رسول الله -صلى الله عليه وسلم يتهلل كأنه مذهبة،فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم : "من سن في الإسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء، ومن سن في الإسلام سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أوزارهم شيء" رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جریر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہم صبح سویرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم آئی جو ننگی اور کمبل پوش تھی تلواریں گلے میں ڈالے تھے۲؎ان میں عام بلکہ سارے ہی قبیلہ مضر سے تھے ان کا فاقہ دیکھ کر حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کا رنگ اڑ گیا ۳؎لہذا اندرتشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے اذان و تکبیر کہی پھر نماز پڑھی پھرخطبہ فرمایا ۴؎ارشاد فرمایا اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا آخر آیترقیبًاتک ۵؎اور وہ آیت تلاوت فرمائی جو سورۂ حشر میں ہےاللہسے ڈرو ہر شخص غورکرے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ۶؎انسان اپنے دینار درہم اپنے کپڑے گندم وجَو کے صاع میں سے خیرات کرے حتی کہ فرمایا کھجور کی کھانپ ہی سہی ۷؎فرماتے ہیں کہ ایک انصاری تھیلی لائےجس کے وزن سے ان کا ہاتھ تھکا جاتا تھا بلکہ تھک ہی گیا ۸؎پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا حتی کہ میں نے کھانے کپڑے کے ڈھیر دیکھے ۹؎تاآ نکہ میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور دیکھا کہ چمک رہا ہے گویا سونے کی ڈلی ہے ۱۰؎تب رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے اپنے عمل اور ان کے عملوں کا ثواب ہے جو اس پر کار بند ہوں ۱۱∞؎ان کا ثواب کم ہوئے بغیر اور جو اسلام میں بُرا طریقہ ایجاد کرے اس پر اپنی بدعملی کا گناہ ہے اور ان کی بدعملیوں کا جو اس کے بعد ان پر کاربند ہوں اس کے بغیر ان کے گناہوں سے کچھ کم ہو۱۲؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام جریر ابن عبداللہ بَجلی ہے،مشہورصحابی ہیں،نہایت حسین اور خوش اخلاق تھے،عمر فاروق آپ کو یوسف علیہ السلام سےتشبیہ دیتے تھے،حضور کی وفات کے سال اسلام لائے۔بعض روایات میں ہے کہ وفات شریف سے چالیس دن پہلے ایک زمانہ کوفہ میں رہے (مقام قرقیسیا میں)، ۵۱ ھمیں و فات ہوئی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
۲؎یعنی غربت کی وجہ سے ان کے پاس سوائے ایک کمبل کے تن ڈھکنے کو کوئی کپڑا نہ تھا اس کے باوجود غزوے اور جہاد کے شوقین تھے کہ تلواریں ہر ایک کے پاس تھیں۔
۳؎یعنی ان کی فقیری سے خاطر اقدس کو بہت ملال پہنچا جس کے آثار چہرۂ انور پر نمودار ہوئے کیوں نہ ہو،بے نواؤں فقیروں کے غم خوار جو ہیں،ہم غریبوں پر وہ رنج نہ کریں تو کون کرے۔شعر
من از بے نوائی نیم روئے زرد غم بے نوایاں رُخم زرد کرد
یہ اس آیت کی تفسیر ہے"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"۔
۴؎یہ وعظ لوگوں کو خیرات پر رغبت دینے کے لئے تھا،اس وقت دولت خانۂ اقدس میں کچھ ہوگا نہیں۔
۵؎یہ آیت حسب موقعہ تلاوت فرمائی،یعنی سارے امیروفقیر بھائی ہیں کہ آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔امیر کو چاہیئے کہ فقیر کی مدد کرے۔مرقاۃ میں اس جگہ ہے کہ حضرت حوّا کے بیس بار میں چالیس بچے ہوئے بیس لڑکے بیس لڑکیاں۔
۶؎یعنی قیامت کے لئے نیک اعمال خصوصًاصدقہ و خیرات کیا کرو۔
۷؎کیونکہ رب تعالٰی کی بارگاہ میں خیرات کی مقدار نہیں دیکھی جاتی بلکہ دینے والے کا اخلاص۔اس سے معلوم ہوا کہ غریب آدمی اپنی ضروریات میں سے کچھ خیرات کرے تو ثواب کا مستحق ہے،بشرطیکہ بال بچوں اور اہل حقوق کا حق نہ مارے اور بعد میں خود بھی بھیک نہ مانگے۔
۸؎یعنی تھیلی میں اتنا غلّہ تھا جو انصاری سے برداشت نہ ہوسکا اور زیادتی بوجھ کے سبب تھیلی ہاتھ سے گر گئی۔ظاہر یہ ہے کہ یہ جَویا گندم وغیرہ کا بڑاتھیلا ہوگاجیساکہ اگلےمضمون سے معلوم ہورہا ہے کہ بارگاہ نبوی میں اس وقت غلّے اور کپڑے کے ڈھیرلگے۔بعض شارحین نےلکھاکہ وہ ہمیانی تھی جس میں درہم و دیناربھرے ہوئے تھے مگر یہ خلاف ظاہر ہے۔خیال رہے کہ یہ انصاری سب سے پہلے یہ خیرات لائے پھر ان کو دیکھ کر دوسرے حضرات اسی لیئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وہ تعریف فرمائی جو آگے بیان ہورہی ہے۔
۹؎جوان فقراء پرتقسیم کے لئے جمع ہوگئے تھے۔ چونکہ ان مساکین کی پوری جماعت تھی اسی لئے اتنا صدقہ کیا گیا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بوقت ضرورت چندہ کرنا جائز ہے۔دوسرے کہ مسجد میں دوسروں کے لیئے سوال جائز ہے۔جن احادیث میں مسجد میں مانگنے کی ممانعت ہے وہاں اپنے لیئے مانگنا مراد ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔
۱۰؎فقراء کی حاجت روائی اور صحابہ کی خیرات پر خوشی کی وجہ سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی امت کی نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں او ر جواللہاوررسول کو راضی کرنا چاہے وہ فقیروں کی حاجت پوری کرے۔خیال رہے کہ جس چاندی کے ٹکڑے پر سونے کا ملمع کردیا جائے یا جس چمڑے یا کپڑے پر طلائی کام کردیا جائے اسے عربی میںمذھبّہکہتے ہیں۔یہاں پہلے معنے مراد ہیں۔
۱۱∞؎یعنی موجد خیر تمام عمل کرنے والوں کے برابر اجر پائے گا لہذا جن لوگوں نے علم فقہ،فن حدیث،میلاد شریف،عرس بزرگاں،ذکر خیر کی مجلسیں،اسلامی مدرسے،طریقت کے سلسلے ایجاد کئے انہیں قیامت تک ثواب ملتا رہے گا۔یہاں اسلام میں اچھی بدعتیں ایجاد کرنے کا ذکر ہے نہ کہ چھوڑی ہوئی سنتیں زندہ کرنے کا،جیسا کہ اگلے مقابلے سے معلوم ہورہا ہے اس حدیث سے بدعت حسنہ کے خیر ہونے کا اعلٰی ثبوت ہوا۔
۱۲؎یہ حدیث ان تمام احادیث کی شرح ہے جن میں بدعت کی برائیاں آئیں۔صاف معلوم ہوا کہ بدعت سیئہ بری ہے اور ان احادیث میں یہی مراد ہے۔یہ حدیث بدعت کی دو قسمیں فرما رہی ہیں،بدعت حسنہ اور سیئہ،اس میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہوسکتی ان لوگوں پر افسوس ہے جو اس حدیث سے آنکھیں بند کرکے ہر بدعت کو برا کہتے ہیں حالانکہ خود ہزاروں بدعتیں کرتے ہیں۔بدعت کی تحقیق اور اس کی تقسیم پچھلے باب میں گزر چکی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 210